
مرکزاطلاعات فلسطین
نام نہاد ہیکل کی حامی انتہا پسند یہودی تنظیموں نے عبرانی عید الفصح کے دوران مسجد اقصیٰ کے اندر جانوروں کی قربانی دینے کی مہم میں شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ عید یکم اپریل سے 8 اپریل سنہ 2026ء کے درمیان منائی جائے گی، جو کہ عید الفطر کے تقریباً 12 دن بعد آئے گی۔
یہ اشتعال انگیز قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب رمضان المبارک کے دوران بھی مسجد اقصیٰ کو نماز کے لیے بند رکھا گیا ہے۔ یہ وہی بندش ہے جس کا مطالبہ ان انتہا پسند گروہوں نے پہلے ہی کر دیا تھا تاکہ وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکیں۔
اسی تناظر میں ‘مدرسہ جبل الہیکل’ سے وابستہ الکانا وولفسون (جو کہ ربی الیشع وولفسون کا بیٹا ہے) نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک اشتہاری مہم جاری کی ہے۔ اس میں ذبح شدہ جانوروں کی قربانی کی ایک ضیافت دکھائی گئی ہے اور مسجد اقصیٰ کے مقام پر نام نہاد ‘ہیکل’ کی تعمیر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
ادھر نام نہاد ‘انسٹی ٹیوٹ آف ٹیمپل’ نے بھی جانوروں کی قربانی کی ضیافت کی ایک تصویر گردش میں لائی ہے جس کے پس منظر میں قبہ الصخرہ دکھائی دے رہا ہے اور اس کے سامنے توراتی قربان گاہ دکھائی گئی ہے۔ اس تصویر کے ساتھ یہ پیغام درج ہے کہ: "ایک ماہ میں ہیکل کی بنیاد رکھنا مشکل کام ہو سکتا ہے، لیکن قربان گاہ بنانا اور قربانی کی روایت کو زندہ کرنا یقیناً ممکن ہے”۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس سال مسجد اقصیٰ میں جبراً قربانی کی روایت مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سنہ 2025ء کے دوران مسجد اقصیٰ میں چھوٹے جانور یا ذبح شدہ گوشت کے ٹکڑے لے جانے کی تین کوششیں ریکارڈ کی گئیں، جو قابض اسرائیل کے دورِ قبضہ میں ایک ایسی مثال تھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ مبصرین اسے ان گروہوں کے عزائم کی تکمیل کی بڑھتی ہوئی کوششوں کی ایک خطرناک علامت قرار دے رہے ہیں۔
حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ القدس میں قابض اسرائیلی پولیس کے متعدد افسران اور اہلکار ‘مذہبی صیہونیت’ کے نظریات سے جڑے ہوئے ہیں۔ رمضان سے عین قبل انتہا پسند افشالوم بيليد نے القدس پولیس کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا ہے، جو مسجد اقصیٰ کی جگہ نام نہاد ہیکل کی تعمیر کے بڑے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسجد اقصیٰ میں جانوروں کی قربانی کے اس قدیم نظریے کو زندہ کرنے کی کوششیں سنہ 2014ء سے شروع ہوئی تھیں۔ تب سے اب تک یہ گروہ گزشتہ 12 برسوں سے مسجد اقصیٰ کے گرد و نواح میں اس عمل کی سالانہ مشقیں (ماک ڈرلز) کر رہے ہیں۔
اس سے قبل ان گروہوں نے سنہ 2022ء اور سنہ 2023ء میں بھی اسی طرح کی مہمات چلائی تھیں، جب عبرانی عید الفصح رمضان کے تیسرے عشرے کے دوران آئی تھی۔
ان تنظیموں کی جانب سے بار بار یہ بیانیہ سامنے آ رہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش دراصل وہاں قربانی کی رسم مسلط کرنے کا ایک مقدمہ ہے۔ وہ رمضان کے بعد بھی اس بندش کو جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ تمام تر اشتعال انگیزی ایسے وقت میں جاری ہے جب مسجد اقصیٰ آج نویں روز بھی مسلسل بند ہے، جبکہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ قابض دشمن کی جانب سے وہاں نمازِ تراویح، قیام اللیل اور اعتکاف پر پابندی عائد ہے، جس نے آباد کار گروہوں کو مسجد اقصیٰ کی شناخت مٹانے اور وہاں نئے حقائق مسلط کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔
دوسری جانب، القدس کے باسیوں میں عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد کی بندش کے خلاف احتجاجاً مسجد اقصیٰ کے دروازوں یا قریب ترین ممکنہ جگہ پر نماز ادا کی جائے۔
سوشل میڈیا پر نوجوانوں اور سرگرم کارکنوں نے "اگر اندر داخل ہونے سے روک دیے جاؤ تو اس کے دہلیز پر سجدہ کرو” کے عنوان سے مہم چلائی ہے تاکہ مسجد کے گرد مسلط کی گئی تنہائی کو ختم کیا جا سکے اور وہاں مسلمانوں کے حقِ عبادت کا دفاع کیا جا سکے۔
اہلِ قدس کا کہنا ہے کہ یہ نام نہاد ‘ہنگامی اقدامات’ صرف مسجد اقصیٰ پر نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ شہر کے باقی حصوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ بازار کھلے ہیں اور یہودی آباد کار بغیر کسی پابندی کے القدس میں اپنی ‘عیدِ پوریم’ کے جشن منا رہے ہیں۔


