
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں بین الاقوامی برادری کی مصروفیت کے سائے میں غزہ کی پٹی میں انسانی حالات بدترین صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل عالمی توجہ میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ کا محاصرہ سخت اور اپنی عسکری پالیسیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ اس تناظر میں یورو میڈیٹیرینین ہومن رائٹس مانیٹر کے سربراہ رامی عبدہ نے غزہ کی گزرگاہوں پر قابض اسرائیل کی سخت پابندیوں کے نتیجے میں انسانی صورتحال کی تیزی سے ابتری پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رامی عبدہ نے "فلسطین” اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل غزہ کا انتظام سنبھالنے والی قومی کمیٹی کے کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور اس کے ارکان کو غزہ پہنچنے سے روک رہا ہے تاکہ انتظامی خلا برقرار رہے اور شہری امور کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ پالیسیاں انسانی حالات کو مزید سنگین بنا رہی ہیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہی ہیں، جبکہ بیس لاکھ سے زائد فلسطینی خوراک، دوا، ایندھن اور بنیادی اشیاء کی آمد پر لگی پابندیوں کے باعث انتہائی کٹھن زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
رامی عبدہ نے اشارہ کیا کہ غزہ کی اکثریت بقا کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد پر منحصر ہے، اور سپلائی میں کمی سے بچوں، خواتین اور بوڑھوں میں بھوک اور غذائی قلت کے سائے دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مانیٹر کی فیلڈ ٹیموں نے طبی خدمات میں مسلسل گراوٹ کو دستاویزی شکل دی ہے، جہاں ایندھن اور طبی سامان کی قلت سے ہسپتال مفلوج ہو رہے ہیں اور مریضوں کو علاج کے لیے سفر کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
غزہ معاہدے پر عملدرآمد میں رکاوٹ
رامی عبدہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ میں دنیا کی مصروفیت اور عالمی دباؤ میں کمی کا فائدہ اٹھا کر غزہ میں اپنی جابرانہ پالیسیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں سیز فائر کے دوسرے مرحلے کے تقاضوں پر عملدرآمد کو روکنا، افراد اور سامان کی نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کرنا اور فضائی و توپ خانے سے حملوں میں شدت لانا شامل ہے۔
انہوں نے نام نہاد پیلے زون (یلو زون) کی توسیع اور باقی ماندہ عمارتوں اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کے عمل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے زندگی کے بنیادی مقومات کو تباہ کر کے عسکری کنٹرول مضبوط کر رہا ہے۔
رامی عبدہ نے بتایا کہ گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہدا کی تعداد 636 سے تجاوز کر گئی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بلند شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ سیز فائر حقیقت میں شہریوں کے تحفظ یا حملوں کے خاتمے میں تبدیل نہیں ہو سکا، کیونکہ قتل و غارت گری اور بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
تباہی جو نسل کشی کے مترادف ہے
غزہ میں جاری بمباری اور عمارتوں کو ڈھانے کے حوالے سے رامی عبدہ نے کہا کہ گھروں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ اقدامات نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد رہائشی محلوں، پانی و بجلی کے نیٹ ورکس اور تعلیمی و طبی مراکز کو تباہ کر کے فلسطینیوں کے وجود کو مٹانا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل غزہ کی 90 فیصد عمارتوں کو تباہ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے تاکہ وہاں زندگی کے مواقع ختم کر کے باقی ماندہ آبادی کو "رضاکارانہ ہجرت” کے نام پر جبری ہجرت پر مجبور کیا جا سکے۔
عالمی موقف پر تنقید
بین الاقوامی اور عرب موقف کے بارے میں رامی عبدہ نے اسے غزہ میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے حجم کے مقابلے میں انتہائی کمزور قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ہولناک جرائم کا جواب محض سیاسی بیانات سے دیا جا رہا ہے جن کے پیچھے کوئی عملی کارروائی یا احتساب کا عمل موجود نہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سزا سے بچنے کا یہی احساس اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کے خلاف اپنی عسکری پالیسیاں جاری رکھنے پر اکسا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ حملے رکوانے، گزرگاہیں کھولنے اور مجرموں کے محاسبے کے لیے بین الاقوامی عدالتی راستوں کی حمایت کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔
یہ انتباہات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور قابض اسرائیل ایران پر حملے کر رہے ہیں، اور صہیونی حکام نے غزہ کی گزرگاہوں کو مکمل بند کرنے کے بعد انہیں جزوی طور پر کھولا ہے مگر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضروری امداد کی فراہمی اب بھی معطل ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے اسرائیل نے امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی میں غزہ کی پٹی پر ایک وسیع جنگ مسلط کر رکھی ہے جس نے ہر طرف تباہی، قتل، بھوک اور ہجرت کے سائے پھیلا دیے ہیں، اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اگرچہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، مگر فلسطینی اور عالمی حلقے اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ اسرائیل نے اس کے انسانی پروٹوکول سمیت کسی بھی شق پر عمل نہیں کیا۔

