
مرکزاطلاعات فلسطین
ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ سفاکیت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران فوجی کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے قابض صہیونی ریاست کی جانب میزائلوں کی ایک ایسی لہر چھوڑنے کا اعلان کیا ہے جسے اب تک کا شدید ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بن گوریون ایئرپورٹ پر فضائی آمد و رفت عارضی طور پر معطل ہو گئی اور خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ اور قابض اسرائیل نے 28 فروری سنہ 2026ء کو شروع ہونے والی اپنی فوجی جارحیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ گذشتہ چند روز کے دوران ان فضائی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی ریڈ کراس کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 6668 سے زائد سویلین مقامات قابض دشمن کی بمباری کی زد میں آئے ہیں۔ ان میں 5535 رہائشی مکانات اور 1041 تجارتی مراکز کے علاوہ سکول اور طبی مراکز بھی شامل ہیں۔ تہران نے ان حملوں کو شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کی نسل کشی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔
تازہ ترین سفاکانہ کارروائیوں کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بتایا ہے کہ صوبہ البرز کے شہر فردیس میں قابض اسرائیل کے ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ادھر ایرانی ایجنسی مہر نے تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دارالحکومت تہران میں امریکہ اور صہیونی سفاکیت کی وجہ سے کم از کم 12 طبی مراکز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی صوبے مرکزی کے ایک سرکاری ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ اراک شہر کے صنعتی زون میں 6 پیداواری یونٹس پر کی گئی فضائی بمباری کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس صورتحال میں جنگ کا دائرہ خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات تک پھیل گیا ہے۔ ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں موجود فوجی اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا اعلان کیا ہے جبکہ بمباری کے جواب میں قابض اسرائیل کے اندر وسیع علاقوں میں خطرے کے سائرن مسلسل گونج رہے ہیں۔
آج صبح مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے مقبوضہ فلسطین پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ شروع کر دیا ہے۔
ایرانی فوج نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران مقبوضہ علاقوں میں واقع پلماخیم اور عویدہ فضائی اڈوں کے علاوہ شاباک کے ہیڈ کوارٹر کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
قابض اسرائیل کی ہوم فرنٹ کمانڈ نے القدس اور گریٹر تل ابیب کی جانب آنے والے ایرانی میزائلوں کی تصدیق کی ہے جبکہ قابض اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کا سکیورٹی دفاعی نظام ان میزائلوں کو فضا میں روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جاری فوجی کارروائیوں کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازعہ ایک انتہائی پیچیدہ اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جو ایک طویل اعصابی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، خاص طور پر ایران کے پاس میزائلوں اور ڈرونز کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جسے وہ ان حملوں کے جواب میں مسلسل استعمال کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس جنگ کا آغاز 28 فروری سنہ 2026ء کو اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور قابض اسرائیل نے ایران کے اندر اچانک فضائی حملے کیے تھے۔ اس کے جواب میں ایران نے قابض اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا ہمہ گیر محاذ کھل گیا ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی دھمکی دے رہا ہے۔


