
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سنہ 2026ء سے شروع ہونے والی سفاکیت کے دوران جنوبی لبنان میں مزید 18 فوجی چیک پوسٹیں قائم کر لی ہیں جبکہ فرانس نے لبنانی سر زمین پر کسی بھی قسم کی زمینی جارحیت اور دراندازی کے خلاف سخت وارننگ دی ہے۔
عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے انکشاف کیا ہے کہ اس جنگ سے قبل لبنانی حدود کے اندر قابض اسرائیلی فوج کے پاس پانچ مستقل مقامات تھے جو مستقل ڈھانچوں کی شکل میں موجود تھے۔
اخبار نے مزید بتایا کہ اب اس علاقے کی گہرائی میں مزید 18 مقامات قائم کیے جا چکے ہیں جہاں قابض فوج کا کام حزب اللہ کے ایلیٹ رضوان یونٹ کے ارکان کا تعاقب کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کے تین ڈویژن اس مشن کی تکمیل کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف جنگ کو وسعت دینے کی تیاری کر رہا ہے جس کے لیے ریزرو فورس کی بڑے پیمانے پر متحرک ہونے کی ضرورت پڑے گی۔
جمعرات کے روز قابض اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ میں حزب اللہ کے 10 ہیڈ کوارٹرز اور لبنان کے مختلف حصوں میں راکٹ لانچر نصب کرنے کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے قابض اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ لبنانی حدود میں کسی بھی زمینی حملے کا ارادہ واضح طور پر ترک کر دے اور ساتھ ہی حزب اللہ سے بھی اپنے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عمانویل میکروں کے یہ بیانات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عربی زبان میں جاری کردہ ایک بیان میں سامنے آئے جو انہوں نے لبنانی صدر جوزیف عون اور شامی صدر احمد الشرع سے طویل بات چیت کے بعد جاری کیے۔
عمانویل میکروں نے موجودہ مرحلے کو ان دونوں ممالک کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا جو طویل عرصے سے علاقائی بحرانوں اور آمریت کا شکار رہے ہیں اور انہوں نے لبنان کی سلامتی اور وحدت کو درپیش خطرات کے خلاف صدر عون کی کوششوں کو سراہا ہے۔
لبنانی حکام کی جانب سے منگل کی شام جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق لبنان پر قابض اسرائیل کی اس وسیع تر سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 634 افراد شہید اور 1586 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 8 لاکھ 17 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ کی بھرپور پشت پناہی کے ساتھ قابض اسرائیل نے 8 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی وحشیانہ جنگ شروع کر رکھی ہے جس کے دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 72 ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔
صہیونی دشمن نے غزہ کی پٹی کے 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے جہاں تقریباً 24 لاکھ فلسطینی آباد ہیں جن میں سے 15 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور وہ قابض اسرائیل کے حصار اور بمباری کے سائے میں انسانی المیے کا سامنا کر رہے ہیں۔
گذشتہ کئی دہائیوں سے قابض اسرائیل نے فلسطین سمیت لبنان اور شام کے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور وہ وہاں سے انخلاء اور ایک آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو مسلسل مسترد کرتا آ رہا ہے۔


