امریکی اور صہیونی جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز کو بند رہنا چاہیے: مجتبیٰ خامنہ ای

0
14

مرکزاطلاعات فلسطین

نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کے روز منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے باضابطہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت بند رہنا چاہیے۔ ان کا یہ موقف ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل سفاکیت اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے دفتر کے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے ملک کو تقسیم کرنے کی مذموم سازشوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا اصل مقصد یہاں کے ممالک پر غاصبانہ کنٹرول قائم کرنا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ تہران اپنے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کا حامی ہے لیکن ایران ان ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ انہوں نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں میں پڑوسی ممالک میں موجود دشمن کے اڈوں کو استعمال کیا گیا ہے جس کا بھرپور جواب دینا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے دشمن کے انسانیت سوز جرائم کا بدلہ لینے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور خاص طور پر جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک سکول کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے خطے کی تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حدود میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کریں۔

یاد رہے کہ ایران میں خارجہ پالیسی اور جوہری پروگرام سمیت تمام اہم ریاستی معاملات میں سپریم لیڈر کا فیصلہ ہی حرفِ آخر تصور کیا جاتا ہے۔ ایک طرف مغربی طاقتیں تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری طرف ایران کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض سویلین اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔