
مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر قابض اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان پیر کے روز متعدد بدو خاندان غاصب آبادکاروں کے حملوں اور قابض فوج کے ظالمانہ اقدامات کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر جبری ہجرت پر مجبور ہو گئے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مختلف محافظات میں چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور مسجد اقصیٰ سمیت حرم ابراہیمی کی مکمل بندش کو مسلسل سترہواں روز ہے۔
دیہاتی کونسل دوما کے سربراہ سلیمان دوابشہ نے بتایا کہ نابلس کے جنوب میں واقع خربہ المراجم سے متعدد فلسطینی خاندان قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے اسلحے کے زور پر دی جانے والی دھمکیوں کے بعد ہجرت کر گئے ہیں۔ قابض فوج نے اس پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
شمالی وادی اردن میں انسانی حقوق کے کارکن عارف دراغمہ نے اطلاع دی ہے کہ غاصب آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے مظالم کے نتیجے میں دو فلسطینی خاندان خربہ سمرہ چھوڑ کر طوباس کے قریبی علاقوں کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اب اس پورے علاقے میں صرف دو خاندان باقی رہ گئے ہیں۔
سلفیت گورنری سے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ انتہا پسند آبادکار شہر کے مشرق میں واقع البدون کے علاقے میں دوبارہ گھس آئے ہیں جہاں انہوں نے نئے خیمے نصب کر دیے ہیں اور اپنے مویشیوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ زمینوں پر قبضہ کیا جا سکے۔
اسی طرح قابض اسرائیلی افواج نے اغوار کے علاقے فصایل الوسطیٰ میں شہری عبد الہادی اعبیات کی ملکیتی تنصیبات کو مسمار کر دیا۔
اسی تناظر میں بدوؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم البیدر نے بتایا کہ رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں المغیر کے جنوب میں ابو ناجح کے ہجرت زدہ خاندان کی جگہ پر آبادکاروں نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ایک نئی بستی قائم کر لی ہے۔
ادھر القدس گورنری کے مشرق میں واقع خان الاحمر کے علاقے میں بھی غاصب آبادکاروں نے دھاوا بولا اور وہاں مقیم مقامی فلسطینیوں پر بہیمانہ تشدد کیا۔
خلیل کے جنوب میں واقع مسافر یطا کے مقام پر آبادکاروں نے اپنے مویشی فلسطینیوں کی زرعی زمینوں میں چھوڑ دیے جس سے کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس علاقے میں آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں دو فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے ایک کے سر پر چوٹ آئی جبکہ دوسرے کو کالی مرچ کے اسپرے کے استعمال سے دم گھٹنے کی شکایت ہوئی۔
واضح رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کے بعد سے قابض اسرائیل اور آبادکاروں نے مغربی کنارے میں اپنی سفاکیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ ان مظالم میں قتل، گرفتاریاں، گھروں اور تنصیبات کی مسماری، جبری بے دخلی اور بستیوں کی توسیع شامل ہے۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق ان جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1125 فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 700 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ قریبی 22 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

