نفحہ عقوبت خانےمیں اسیران کے سامان کی ضبطگی ، قیدیوں کو بدترین حالاتِ زندگی کا سامنا

0
8

مرکزاطلاعات فلسطین

اسیران میڈیا آفس نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی جیل انتظامیہ کی سرکوب فورسز نے گذشتہ ہفتے کے روز نفحہ صحرائی جیل کے مختلف حصوں پر دھاوا بولا اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران اسیران پر تشدد کیا اور ان کا بہت سا سامان ضبط کر لیا۔

میڈیا آفس نے آج پیر کے روز جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ ان جابرانہ فورسز نے اسیران کے پاس موجود کھانے پینے کی اشیاء اور پلاسٹک کے برتنوں اور کپوں سمیت ان کی ذاتی ضرورت کی دیگر اشیاء بھی چھین لی ہیں جس سے جیل کے اندر زندگی گزارنے کے حالات مزید دشوار اور ابتر ہو گئے ہیں۔

بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کیا گیا کہ جیل انتظامیہ نے رمضان المبارک کے آغاز کے بعد پہلی بار اسیران کو جیل کے صحن میں نکلنے کی اجازت دی ہے جبکہ یہ اسیران بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ کر تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ صرف ان خبروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جو جیلر انہیں بتاتے ہیں اور ان کے پاس وقت معلوم کرنے کے لیے گھڑیاں تک موجود نہیں ہیں۔

اسیران میڈیا آفس نے مزید بتایا کہ جیل کے اندر حالاتِ زندگی اس حد تک سنگین اور سفاکیت کا شکار ہو چکے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران واشنگ مشینوں کا استعمال بند کر دیے جانے کے باعث اسیران اپنے کپڑے ہاتھوں سے دھونے پر مجبور ہیں جبکہ ان میں سے بڑی تعداد کے پاس پہننے کے لیے کپڑوں کا صرف ایک ہی جوڑا موجود ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جیل انتظامیہ افطار کا کھانا عصر کے وقت ہی تقسیم کر دیتی ہے جبکہ سحری کا کھانا علی الصبح فراہم کیا جاتا ہے اور اسیران کی جانب سے خوراک کی شدید قلت اور اس کے ناکافی ہونے کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔