
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیل کے وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں برسی جارحیت شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جبکہ مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں قائم ناجائز بستیوں کے سربراہان نے قابض حکومت سے آبادکاروں کو وہاں سے فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سکیورٹی صورتحال کے جائزے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کے دوران یسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج نے مبینہ خطرات کو ختم کرنے اور جلیل و شمالی علاقوں کے مکینوں کے تحفظ کے لیے لبنان میں زمینی آپریشن شروع کر دیا ہے، یہ بات ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
دو مار سنہ 2026ء سے شروع ہونے والی اس حالیہ جارحیت کے آغاز سے ہی قابض اسرائیلی فوج بارہا جنوبی لبنان میں زمینی آپریشن شروع کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے تاہم حزب اللہ نے ان جابر دستوں کا بھرپور مقابلہ کرنے اور انہیں پیچھے دھکیلنے کا اعلان کیا ہے۔
یسرائیل کاٹز نے دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہا کہ جنوبی لبنان کے وہ لاکھوں مکین جو بے گھر ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں وہ اس وقت تک دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک شمالی بستیوں کے آبادکاروں کی سلامتی یقینی نہیں بنا لی جاتی۔
لبنان پر جاری اس مسلسل وحشیانہ حملے اور سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 850 لبنانی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں 107 معصوم بچے اور 66 خواتین شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 2105 ہو گئی ہے، یہ اعداد و شمار لبنانی حکام نے اتوار کے روز جاری کیے۔
یسرائیل کاٹز نے مزید انکشاف کیا کہ انہوں نے اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فوج کو لبنانی سرحدی دیہاتوں میں انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جیسا کہ انہوں نے رفح اور بیت حانون میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور غزہ کی پٹی میں سرنگوں کو تباہ کرنے کے لیے کیا تھا۔
یہ پیشرفت قابض اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ڈویژن 91 نے گذشتہ چند دنوں میں جنوبی لبنان میں مزاحمتی ٹھکانوں کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
قابض فوج نے ان مخصوص علاقوں کا ذکر نہیں کیا جہاں ان کے دستے داخل ہوئے ہیں تاہم دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد دفاعی لائن کو مضبوط کرنا اور مزاحمتی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
اتوار کے روز قابض اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ فوج نے حکومت سے 4 لاکھ 50 ہزار ریزرو فوجیوں کو متحرک کرنے کی منظوری مانگی ہے تاکہ لبنان میں ممکنہ زمینی مہم کی تیاری کی جا سکے، یہ مطالبہ جلد ہی کابینہ اور کنیسٹ کی خارجہ و سکیورٹی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب شمالی سرحد کے قریب واقع صہیونی بستیوں کے سربراہان نے قابض حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان آبادکاروں کو وہاں سے فوری نکالا جائے کیونکہ ان کے علاقوں میں کوئی تحفظ میسر نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 ہزار افراد کا انخلاء ضروری ہے اور اگر کریات شمونہ شہر کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 45 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔
شلومی بستی کی مقامی کونسل کے سربراہ غابی نعمان نے عبرانی ویب سائٹ والا سے گفتگو میں کہا کہ ہم قابض حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مکینوں اور بوڑھوں کو نکالا جائے جن کے پاس کوئی سکیورٹی نہیں ہے اور ہمیں نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔
انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اپنے دفاتر سے باہر نکلیں اور زمینی حقائق دیکھیں، ہم گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے اور یہاں 3000 افراد بغیر کسی تحفظ اور پناہ گاہوں کے موجود ہیں۔
انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ضروریات کو سنا جائے مگر حکومت ان علاقوں کے مطالبات سے آنکھیں چرا رہی ہے جہاں سائرن بجنے کا وقت بھی نہیں ملتا اور براہِ راست میزائل گرتے ہیں۔
قابض اسرائیل کی سپریم کورٹ نے گذشتہ جمعرات کو ایک فیصلے میں تسلیم کیا کہ حکام لبنان کے ساتھ سرحدی بستیوں میں پناہ گاہوں کے معائنے میں ناکام رہے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے معاشی اور نفسیاتی اثرات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ ان علاقوں کے لیے معاشی حل تلاش کیا جائے اور گھر نہ چھوڑنے والوں کو مالی امداد دی جائے۔
واضح رہے کہ 2 مارچ سنہ 2026ء کو حزب اللہ نے لبنانی سرحدوں پر قابض اسرائیل کی مسلسل سفاکیت اور 27 نومبر سنہ 2024ء کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں صہیونی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
قابض اسرائیلی حکام نے 2 مارچ سے اپنے حملوں کا دائرہ کار بیروت کے جنوبی مضافات اور مشرقی و جنوبی لبنان تک پھیلا دیا ہے جہاں اب وہ زمینی دراندازی کی کوششیں کر رہے ہیں جن کا مزاحمتی ونگ بھرپور جواب دے رہا ہے۔

