ٹرمپ کی مجلسِ امن خدشات اور امکانات

0
23

پروفیسر ڈاکٹر محسن محمد صالح
ڈائریکٹر جنرل، مرکز الزیتونہ برائے مطالعات و مشاورت

ترجمانی : سید عبدالعلام زیدی

ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق اس کی مجلسِ امن کو دو سال دیے گئے ہیں۔ اس مدت میں اسے درج ذیل ٹاسک پورے کرنے ہیں۔

  • غزہ کی تعمیرِ نو
  • فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار ختم کرنا
  • اسرائیلی فوج کو غزہ کے باقی علاقوں سے واپس لے جانا

سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ واقعی کامیاب ہو سکتا ہے؟یا پھر شروع میں تواس جوش و خروش ہوگا۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کی رفتار کم ہوتی چلی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا اصل مقصدہی بدل جائے ، یوں یہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے صرف تنازع کو سنبھالنے کا رول پلے کرنے لگے ۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ ادارہ اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کے بجائے اس کے جاری رہنے کا جواز پیدا کرے گا۔کیونکہ نظر یہی آ رہا ہے کہ اسے خاص طاقت اور اختیارات نہیں دیے جائیں گے اور امریکہ اسے اپنے کنٹرول میں زیادہ سے زیادہ لیتا چلا جائے گا ۔ اس صورت میں حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں اور خطے میں نئی کشیدگی جنم ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کی طرف سے اعلان کی گئی مجلسِ امن کو شروع میں کافی سیاسی توجہ ملی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس منصوبے نے کوئی مکمل اور منصفانہ حل پیش کیا تھا ، نہ ہی اس لیے کہ فلسطینیوں، اسرائیلیوں، عرب ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان اس پر مکمل اتفاق موجود تھا۔

اس کی درج ذیل وجوہات تھیں :۔

1۔ بہت سے لوگوں نے اس منصوبے کو کم از کم ایک عارضی حلسمجھا تھا ۔انہیں امید تھی کہ اس کے ذریعے چند فوری مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

مثلاً:

  • اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیاں رک سکتی ہیں
  • غزہ میں ہونے والی شدید تباہی کم ہو سکتی ہے
  • غزہ کے لوگوں کو زبردستی وہاں سے نکالنے کے منصوبے رک سکتے ہیں
  • اور غزہ کے عوام تک انسانی امداد پہنچ سکتی ہے
  • اس کے ساتھ تعمیرِ نو کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے

اس منصوبے کو ایک مکمل سیاسی حل نہیں بلکہ ایک فوری عملی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

2۔ یہ منصوبہ نہ تو مکمل سیاسی پروگرام ہے اور نہ ہی کسی مستقل امن معاہدے کا واضح نقشہ ، اس کے باوجود اسے طاقت ملنے کی دوسری وجہ امریکہ کا اس پروجیکٹ کے پیچھے کھڑا ہونا ہے ۔ٹرمپ ایک ایسا رہنما ہے جو دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اسرائیل پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک پر بھی اور عالمی طاقتوں پر بھی۔

اسی وجہ سے بہت سے ممالک ٹرمپ کے ساتھ براہ راست ٹکر لینا نہیں چاہتے ۔انہیں خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے مخالفت کی تو ٹرمپ ناراض ہو سکتا ہے اور سخت ردِّعمل دے سکتا ہے۔

عرب اور عالمی ممالک کی حکمت عملی

بعض عرب اور عالمی ممالک نے اس صورتحال میں ایک عملی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ان کا خیال یہ ہے کہ پہلے ٹرمپ کے اس منصوبے کے ساتھ چل لیا جائے ،پھر وقت کے ساتھ اس کی رفتار کو کم کیا جائے اور اس کی سمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔

یعنی وہ اس منصوبے کے اندر رہ کر حقیقت پسندانہ تبدیلیاں لانے کی امید رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کی ایک خاص عادت یہ بھی ہے کہ وہ جلد نتائج دیکھنا چاہتا ہے۔اسی لیے کچھ ممالک کو امید ہے کہ شاید وہ کچھ معاملات میں زیادہ حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرے گا۔

خاص کر کے :

  • انسانی امداد
  • تعمیرِ نو
  • سرحدی گزرگاہوں کا کھلنا
  • فلسطینی اتھارٹی کا کردار
  • اسرائیلی فوج کا انخلا

بہت سے ممالک صرف یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیلی نقصان اور تباہی کم ہو جائے اور ساتھ ہی امریکہ بھی ناراض نہ ہو۔اسی وجہ سے اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر بھی ایک حد تک حمایت ملی۔

چنانچہ

17 اکتوبر 2025 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2803 منظور کی، اس قرارداد نے اس منصوبے کو ایک طرح کی عالمی حمایت فراہم کی۔

لیکن یہاں ایک اہم مسئلہ سوال پیدا ہوتا ہے!

اگر کسی منصوبے کی بنیاد صرف فوری زمینی مسائل کے حل پر ہو، اور اس کے پیچھے کوئی مضبوط اور مستقل سیاسی حل نہ ہو، تو ایسے منصوبوں کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ نہیں ہوتے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ منصوبہ بھی فوری اور وقتی حل رکھتا ہے تو یہ کیسے کامیاب ہو پائے گا ؟

آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس منصوبے میں کون کون سے پہلو کمزور ہیں ۔

مجلسِ امن کی بنیادی کمزوریاں

اہم کمزوریاں درج ذیل ہیں۔

1۔ شناخت اور مقصد کا مسئلہ

شروع میں کہا گیا تھا کہ مجلسِ امن ایک عارضی بین الاقوامی انتظامی ادارہ ہوگی۔

اس مجلس کو چند اہم ذمہ داریاں یہ دی گئی تھیں۔

  • غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے منصوبہ بنانا
  • تعمیرِ نو کے لیے عالمی مالی مدد کو منظم کرنا
  • تکنوکریٹ کمیٹی اور ایگزیکٹو کونسل کی نگرانی کرنا

لیکن بعد میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی۔

جب ٹرمپ نے ڈیووس میں اس مجلس کے منشور پر دستخط کیے تو اس کا پورا تعارف ہی بدل دیا۔ اسے صرف غزہ کے لیے ایک ادارہ نہیں بلکہ دنیا میں تنازعات حل کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نئے منشور میں غزہ کا نام تک واضح طور پر نہیں لیا گیا۔

اس تبدیلی نے کئی ممالک کو پریشان کر دیا۔بہت سے لوگوں کو لگا کہ ٹرمپ دراصل اس ادارے کو اقوام متحدہ کے متبادل عالمی ادارے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔اسی وجہ سے روس، چین اور یورپ کی بعض بڑی طاقتوں نے اس منصوبے سے فاصلہ اختیار کرلیا۔

ممکن ہے کہ یہ ممالک کھل کر اس کی مخالفت نہ کریں۔لیکن وہ مختلف طریقوں سے اس فورم اور کمیٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔وہ آہستہ آہستہ اس کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

2۔ ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات

اس کمیٹی میں ٹرمپ کو بہت زیادہ طاقت دی گئی ہے۔یہ صرف امریکہ کی قیادت تک محدود نہیں ہے۔بلکہ کئی معاملات میں فیصلہ براہ راست ٹرمپ کی شخصیت سے وابستہ ہے۔

مثلاً:

  • کون سا ملک اس مجلس کا رکن بنے گا
  • کس ملک کی رکنیت ختم ہوگی
  • اور کون سے فیصلے کیے جائیں گے

یہ سب بڑی حد تک ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔اس وجہ سے یہ مجلس کسی بین الاقوامی جمہوری ادارے کے بجائے ایک شخصی نظام کی طرح نظر آتی ہے۔ اس کا انداز ایک آمرانہ انتظامیہ جیسا محسوس ہوتا ہے۔

3۔ بین الاقوامی قانونی جواز کا مسئلہ

یہ مجلس اقوام متحدہ کے تحت قائم نہیں ہوئی۔اور نہ ہی اس کے پاس کوئی مضبوط عالمی قانونی بنیاد موجود ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فیصلوں کو مکمل بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔

4۔ قانونی اور اخلاقی اصولوں کی کمی

یہ مجلس بین الاقوامی قانون اور عالمی اصولوں کی بنیاد پر قائم نہیں ہے۔

یہ ادارہ ان عالمی قواعد کا پابند نہیں جو عام طور پر بین الاقوامی تنظیموں پر لاگو ہوتے ہیں۔

اس وجہ سے اس کے فیصلوں میں:

  • قانون
  • انصاف
  • اخلاقی اصول

کے بجائے طاقت اور سیاسی مفادات زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اس صورت میں تنازعات کو انصاف کی بنیاد پر حل کرنے کے بجائے صرف ان میں کسی ایک فریق کی ظالمانہ سپورٹ کرنے کا امکان موجود ہے۔

5۔ فلسطینی عوام کی نمائندگی کا مسئلہ

· یہ کمیٹی فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔بلکہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو فلسطینیوں پر مسلط کیا گیا ہے۔

· اس کے فیصلے فلسطینی عوام کی مرضی کی نمائندگی نہیں کرتے۔یہ مجلس فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔ یاد رہے کہ حقِ خود ارادیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور حکومت کا فیصلہ خود کرے۔

· یہ مجلس فلسطینی نمائندہ اداروں کو بھی نظر انداز کرتی ہے۔خاص طور پر تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کو۔

اس کے علاوہ یہ کمیٹی غزہ کو باقی فلسطینی علاقوں سے الگ بھی کر تی ہے۔

یعنی:

  • غزہ کو مغربی کنارے سے الگ کرکے ڈیل کرتی ہے
  • فلسطینی سیاسی نظام سے الگ کرتی ہے ہے
  • اسی طرح فلسطینی عوام کی مشترکہ نمائندگی سے بھی الگ کر تی ہے

یوں غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

6۔ اصل فریق کی عدم موجودگی

یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے، اس مجلس میں فلسطینی فریق شامل ہی نہیں ہے۔یعنی جس قوم کا مستقبل زیر بحث ہے وہی فیصلہ سازی میں شامل نہیں۔یہ صورتحال اس منصوبے کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔کیونکہ کسی بھی تنازع کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اصل فریق کو شامل کیا جائے۔

7۔ مظلوم کو سزا اور قابض کو انعام

اس منصوبے میں ظلم کا ایک عجیب پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں فلسطین تو شامل نہیں ہے البتہ اسرائیل، جس پر غزہ کی تباہی اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں، وہ اس کمیٹی کا رکن ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

  • جس نے تباہی کی وہ فیصلہ سازی میں شامل ہے
  • اور جس پر ظلم ہوا وہ فیصلہ سازی سے باہر ہے

اس طرح گویا مجرم کو جج کی کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے۔اس سے زیادہ انصاف کا خون اور کیا ہو گا ؟!

اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی ہے۔

اس منصوبے کے تحت اسرائیل کا غزہ سے انخلا مکمل طور پر واضح اور لازمی نہیں ہے۔ اسرائیل کے پاس یہ امکان موجود ہے کہ وہ اپنی موجودگی کو عارضی سے مستقل بنا دے، یوں وہ اپنا قبضہ جاری رکھ سکتا ہے۔

8۔ ٹرمپ کی ذات اور عالمی مشکلات

ٹرمپ کی اپنی سیاسی صورتحال بھی اس منصوبے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔امریکی تجزیہ کار ڈیوڈ بروکس نے 23 جنوری 2026 کو نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا۔اس میں اس نے کہا کہ امریکہ اور دنیا اس وقت چار بڑے بحرانوں سے گزر رہے ہیں۔

  • عالمی نظام کا بحران
  • امریکہ کے اندرونی استحکام کا بحران
  • امریکی جمہوری نظام کا بحران
  • اور ٹرمپ کی قیادت سے متعلق بحران

ٹرمپ کی پالیسیاں کئی عالمی تنازعات کو بھی بڑھا رہی ہیں۔وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں نئی کشیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ جلد ہی امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات ہونے والے ہیں۔اگر ان انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو شکست ہوئی تو ٹرمپ کی سیاسی طاقت کم ہو سکتی ہے۔اس صورت میں اس کے منصوبوں کو آگے بڑھانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

مستقبل کے حوالے سے چند باتیں

ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر ممالک ٹرمپ کی مجلسِ امن کے قیام کی براہِ راست مخالفت نہیں کریں گے۔کئی عرب، اسلامی اور عالمی ممالک اس میں شامل بھی ہو سکتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ واقعی ٹرمپ کی عالمی قیادت یا اس کے بنائے ہوئے نئے عالمی نظام پر یقین رکھتے ہیں، بہت سے ممالک صرف سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔کچھ عرصے تک یہ مجلس کام کرتی رہ سکتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف ممالک کے مفادات اس کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک جڑے ہوئے ہیں۔

کچھ مزید چیزیں درج ذیل ہیں :

· اسرائیل کو اس کمیٹی کے ذریعے ایک ایسا قبضہ مل سکتا ہے جس میں اس پر زیادہ ذمہ داریاں نہ ہوں

· امریکہ کو اس کمیٹی کے ذریعے خطے میں اثر و رسوخ مل سکتا ہے، وہ بھی زیادہ قیمت ادا کیے بغیر

· بعض عرب اور اسلامی حکومتوں کو اس کے ذریعے مزاحمتی تحریکوں اور سیاسی اسلام کو کمزور کرنے کا موقع مل سکتا ہے

· دنیا کے کئی ممالک اس منصوبے کے ذریعے اپنی عوام کے سامنے یہ دکھا سکتے ہیں کہ وہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

اسی وجہ سے ممکن ہے کہ کئی عرب اور اسلامی ممالک اس مجلس میں شامل ہو جائیں۔ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ اس کے اندر رہ کر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں، اس کے اندر موجود محدود مواقع کو استعمال کر کے فلسطینی عوام کے لیے کچھ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

فلسطینی اور اسرائیلی کشمکش

دوسری طرف فلسطینی اور اسرائیلی فریق کے درمیان کشمکش جاری رہے گی۔اسرائیل اپنی طاقت اور بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔جبکہ فلسطینی عوام اپنے سیاسی حقوق پر قائم رہیں گے۔وہ اپنی آزادی اور خود مختاری کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی طرح فلسطینی مزاحمت بھی اپنے ہتھیار چھوڑنے سے انکار کر سکتی ہے۔

اس وجہ سے حالات میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔کبھی کشیدگی بڑھے گی۔ اور کبھی کچھ وقتی نرمی پیدا ہوگی۔

مثلاً:

· امدادی سامان غزہ میں داخل ہو سکے گا

· تعمیرِ نو کے کچھ کام شروع ہو سکتے ہیں

· اسرائیلی فوج اپنی حکمت عملی میں وقتی تبدیلی کر سکتی ہے

لیکن بنیادی تنازع برقرار رہے گا۔

فلسطینی حکمت عملی

فلسطینیوں کی طرف سے ایک ممکنہ حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مجلسِ امن کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بچیں۔

وہ اس کمیٹی کے ذریعے آنے والی خدمات اور امداد کو قبول کر سکتے ہیں۔

وہ ٹکنوکریٹ کمیٹی کو کام کرنے کی اجازت بھی دے سکتے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ وہ مقامی سطح پر اپنی سماجی اور عوامی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

جیسے :

· عوامی تنظیموں کو ایکٹورکھنا

· مزدور اور پیشہ ورانہ تنظیموں کو مضبوط کرنا

· مقامی سماجی اداروں کو متحرک رکھنا

اس طرح وہ اپنی مقامی طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔اسی کے ساتھ وہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش بھی کر یں گے۔

مجلسِ امن کے ممکنہ مستقبل کے تین منظرنامے

اس کمیٹی کے مستقبل کے بارے میں تین اہم امکانات ہو سکتے ہیں۔

پہلا منظرنامہ

محدود اور ظاہری کامیابی

اس منظرنامے میں مجلسِ امن کچھ حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔اس کی ایک وجہ امریکہ کی مضبوط حمایت ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ بعض عرب اور اسلامی ممالک بھی اس کے کچھ منصوبوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔

خاص طور پر درج ذیل معاملات میں پیش رفت ہو سکتی ہے:

· انسانی امداد

· تعمیرِ نو

· انتظامی اداروں کی تشکیل

· سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کی تیاری

لیکن کچھ اہم مسائل میں پیش رفت بہت سست ہو سکتی ہے۔

مثلاً:

· غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا

· فلسطینی مزاحمت کے ہتھیاروں کا مسئلہ

اس دوران چین، روس اور یورپ کی بعض طاقتیں کوشش کریں گی کہ اس کمیٹی کا دائرہ صرف غزہ تک محدود رہے۔

دوسرا منظرنامہ

آہستہ آہستہ کمزور ہونا

یہ امکان بھی موجود ہے کہ وقت کے ساتھ یہ کمیٹی کمزور ہو جائے۔اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

· مجلس کے اندر موجود بنیادی کمزوریاں

· ٹرمپ کی داخلی اور خارجی مشکلات

· عالمی طاقتوں کی طرف سے اس مجلس کو کمزور کرنے کی کوششیں

· مختلف ممالک کے درمیان اختلافات

· اسرائیل کی طرف سے رکاوٹیں اور دباؤ

· تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل کی کمی

· فلسطینی عوام میں مایوسی اور غصہ

· مزاحمت کے ہتھیار ختم کرنے میں ناکامی

· عرب ممالک کی دلچسپی میں کمی

· عالمی میڈیا کی توجہ کا کم ہو جانا

ان تمام عوامل کی وجہ سے مجلسِ امن آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو سکتی ہے۔وقت کے ساتھ اس کی اہمیت کم ہوتی جائے گی۔

اور آخرکار یہ ادارہ آہستہ آہستہ ختم ہو سکتا ہے۔اس صورت میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کے درمیان دوبارہ تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

تیسرا منظرنامہ

عالمی طاقتوں کے درمیان مفادات کی تقسیم

ایک تیسرا امکان بھی موجود ہے۔ممکن ہے کہ بڑی عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کا تبادلہ کرکے اس کمیٹی کو مضبوط کر دیں۔

چنانچہ:

· چین تائیوان کے حوالے سے اپنے مطالبات منوا لے

· روس کو یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل ہو جائیں

· امریکہ گرین لینڈ اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے منصوبے آگے بڑھائے

اس صورت میں چین اور روس یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کے حاصل کیے ہوئے فائدے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گے۔ کیونکہ ٹرمپ کی پالیسیوں میں بہت زیادہ تنازعات اور مسائل موجود ہیں۔اس کے مقابلے میں چین اور روس کے مفادات زیادہ مضبوط اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں بھی نئے سیاسی معاہدے ہو سکتے ہیں۔

مثلاً:

· ابراہیمی معاہدوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے

· خطے میں نئی سیاسی ترتیب بن سکتی ہے

لیکن اس کے ساتھ ایک خطرہ بھی موجود ہوگا۔اس طرح کے معاہدوں سے عوامی سطح پر ناراضی اور غصہ بڑھ سکتا ہے۔خاص طور پر عرب اور اسلامی دنیا میں۔یہ ناراضی مستقبل میں نئے سیاسی اور سماجی بحران پیدا کر سکتی ہے۔یہ صورتحال تاریخ کے اس دور سے ملتی جلتی ہو سکتی ہے جب انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں بڑی استعماری طاقتیں کمزور ممالک کو آپس میں تقسیم کرتی تھیں۔اور یہی صورتحال بعد میں پہلی عالمی جنگ کا سبب بنی۔

آخری نتیجہ

مجلسِ امن کی ناکامی

یہ ممکن ہے کہ یہ مجلس کسی حقیقی امن کے بجائے صرف ایک بحران کووقتی طور سنبھالنے والا ادارہ بن کر رہ جائے۔یون یہ کمیٹی مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کرے گی۔بلکہ صرف حالات کو کچھ عرصہ قابو میں رکھنے کی کوشش کرے گی۔وقت کے ساتھ اس کی طاقت کم ہوتی جائے گی۔اور آخرکار یہ کسی اچانک حادثے کے بغیر ہی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی ۔

(یاد رہے یہ مضمون ایران جنگ سے پہلے لکھا گیا تھا ۔ حالیہ جنگ میں امریکہ کی بدحواسی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کمیٹی کی ناکامی کا منظر نامہ ہی حقیقت بنے گا ۔ اور آنے والے دنوں میں صورت حال امریکہ اور اس کے لے پالک اسرائیل کے ہاتھ سے نکلتی جائے گی ، یقیناً ظلم کی رات ختم ہو کر ہی رہتی ہے اور انصاف کا سورج طلوع ہو کر ہی رہتا ہے ۔ )

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں