
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی کا سلسلہ گذشتہ 18 دنوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں مسجد کے حوالے سے اسرائیلی منصوبوں کے خطرات سے متعلق شدید انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق قابض اسرائیل کی فوج نے مسجد اقصیٰ کی بندش میں عید الفطر کے اختتام تک توسیع کر دی ہے اور ایک وقت میں اوقاف کے 25 سے زائد ملازمین کے مسجد میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
القدس گورنری کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں مخطوطات کے شعبے نے ایک اضافی ملازم کو اندر داخل کرنے کی کوشش کی تو قابض اسرائیل کی پولیس نے دھمکی دی کہ ایک بھی اضافی ملازم کی آمد کے جواب میں مسجد کو آباد کاروں کے دھاووں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
ذرائع نے اس شک کا بھی اظہار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی افواج نے چھت والے مصلوں کے اندر خفیہ کیمرے اور مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں مختلف سمتوں کی نگرانی کرنے والے نئے کیمرے نصب کر دیے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی یہ بندش ایک سوچی سمجھی اور منظم سازش ہے جس کا مقصد جنگ کے دوران مسجد کے انتظامی امور میں ایسی تبدیلیاں لانا ہے جن کے سنگین اور دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔
مسجد اقصیٰ کے امور کے محقق زیاد ابحیص کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہیکل کی نام نہاد تنظیموں کی سرگرمیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قابض اسرائیل کی پولیس کے ساتھ ان کا یہ معاہدہ ہو چکا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو سنہ 2026ء کے ماہ مارچ کی 29 تاریخ تک بند رکھا جائے گا تاکہ اسے 2 سے 9 اپریل کے درمیان یہودیوں کے عید الفصح کے موقع پر جزوی طور پر کھولا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال مسجد اقصیٰ میں عید الفصح کی قربانی ذبح کرنے کی تیاریاں گذشتہ کسی بھی سال کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ نظر آ رہی ہیں بشرطیکہ کوئی مزاحمت اسے روک نہ دے۔


