
مرکزاطلاعات فلسطین
عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی پولیس کے ایک افسر نے شمالی مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں ایک فلسطینی محلے پر دھاوا بولا اور قابض اسرائیلی فوج کی سکیورٹی میں ایک قدیم نقش و نگار والا تاریخی پتھر چوری کر لیا، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔
اخبار کے مطابق اس واردات کا مرکزی کردار مئیر روتر ہے، جو قابض اسرائیل کی پولیس میں کٹر مذہبی (حریدی) کمیونٹی کے شعبے کا سربراہ ہے۔ اس نے یہ کارروائی گذشتہ جمعہ کے روز "ذنابہ” کے علاقے میں کی جو کہ "ایریا اے” میں شامل ہے اور نام نہاد فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں ہے۔ قانون کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کو اس علاقے میں خاص طور پر غیر سکیورٹی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق قدیم آثار کا شوق رکھنے والے روتر نے اس چوری کے لیے اپنے ایک آباد کار دوست زئیف (جابو) ایرلیخ کی فراہم کردہ معلومات کا سہارا لیا۔ مذکورہ آباد کار سنہ 2024ء میں لبنان میں ہلاک ہو چکا ہے، جس نے سنہ 2017ء میں اس مقام کا دورہ کرتے ہوئے ایک پتھر پر نقش و نگار والا شمعدان دیکھا تھا۔
واردات کی ایک ویڈیو میں قابض اسرائیل کا یہ افسر اپنے ساتھ موجود فوجیوں کو سمجھاتے ہوئے نظر آ رہا ہے کہ یہ پتھر محلے کی ایک قدیم عمارت میں نصب تھا اور اس نے دعویٰ کیا کہ مقامی لوگوں کو اس کی اہمیت کا علم ہونے کے بعد اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس نے یہ من گھڑت کہانی بھی سنائی کہ پتھر ایک صحن میں پڑا ہوا ملا اور اس کا مقصد اس "ورثے کو اس کے اصل مالکوں تک پہنچانا” ہے۔
ہارٹز نے نشاندہی کی ہے کہ اس تاریخی پتھر پر قبضہ "سول ایڈمنسٹریشن” کے محکمہ آثار قدیمہ کو اطلاع دیے بغیر کیا گیا، جو کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آثار قدیمہ کے معاملات کا ذمہ دار عسکری ادارہ ہے۔ اس نام نہاد کارروائی میں نوادرات کا کوئی ماہر یا بحالی کا کوئی پروفیشنل شامل نہیں تھا اور نہ ہی روتر کو اس علاقے میں داخل ہونے کی کوئی قانونی اجازت حاصل تھی۔
قابض اسرائیل کی پولیس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کا علم نہیں ہے اور افسر نے اپنی انفرادی حیثیت میں یہ کام کیا ہے، جس کی تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری طرف قابض اسرائیل کی فوج نے بھی واقعے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پتھر فی الوقت فوج یا اس کے کسی فوجی کے قبضے میں نہیں ہے اور اس سلسلے میں مستقبل میں احتیاطی تدابیر سخت کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

