اسرائیلی جیلوں میں تشدد اب جبر کے نظام کا حصہ بن چکا ہے: فرانسسکا البانیز

0
14

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کو مزید تقویت دیتے ہوئے مقبوضہ علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف منظم اور بڑے پیمانے پر تشدد کی کارروائیاں کر رہا ہے، جو ان کے بقول "اجتماعی انتقام اور تباہ کن عزائم” کی عکاسی کرتا ہے۔

فرانسسکا البانیز نے جمعہ کے روز میڈیا کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے اور اس کے بعد غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے ہی فلسطینی اسیران کو "انتہائی وحشیانہ جسمانی اور نفسیاتی تشدد” کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ جس کا عنوان "تشدد اور نسل کشی” ہے میں واضح کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی جیلوں اور فوجی حراستی مراکز میں تشدد کو "اجتماعی سزا کے طور پر بے مثال پیمانے پر” استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ شدید مار پیٹ، جنسی تشدد، موت کی طرف لے جانے والا ناروا سلوک، فاقہ کشی اور زندگی کی بنیادی سہولیات سے محرومی جیسے ہتھکنڈوں نے دسیوں ہزار فلسطینیوں کے جسم و روح پر "گہرے اور دور رس اثرات” چھوڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تشدد اب قابض دشمن کے کنٹرول کے نظام کا "لازمی حصہ” بن چکا ہے، چاہے وہ حراستی مراکز کے اندر ہو یا جبری نقل مکانی، اجتماعی قتل اور ذرائع معاش کی تباہی جیسی وسیع تر پالیسیوں کے ذریعے ہو، جس کا مقصد فلسطینیوں کو "طویل مدتی اجتماعی اذیت” میں مبتلا کرنا ہے۔

فرانسسکا البانیز نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے رپورٹ کے نتائج کی حمایت میں 300 سے زائد گواہیاں اور تحریری یادداشتیں جمع کی ہیں، جو جنگ کے آغاز سے اب تک کے اسرائیلی طرزِ عمل پر مرکوز ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام فریقوں بشمول فلسطینی مسلح ونگز کی جانب سے تشدد اور ناروا سلوک کی "دو ٹوک الفاظ میں” مذمت بھی کی ہے۔

توقع ہے کہ فرانسسکا البانیز اپنی یہ رپورٹ پیر کے روز انسانی حقوق کونسل میں پیش کریں گی۔ واضح رہے کہ خصوصی مبصرین کا تقرر کونسل کرتی ہے لیکن وہ آزاد ماہرین کی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور سرکاری طور پر اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے جنیوا میں اسرائیلی مشن سے اس پر تبصرہ مانگا ہے، جس نے ماضی میں فرانسسکا البانیز پر الزام لگایا تھا کہ وہ "نفرت کے ایجنڈے” پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد قابض اسرائیل کے جواز کو ختم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کی مبصر کو قابض اسرائیل اور اس کے بعض اتحادیوں کی جانب سے شدید تنقید اور سام دشمنی کے الزامات کا بھی سامنا ہے، جبکہ ان کے اس موقف کی وجہ سے کہ اسرائیل "نسل کشی” کا مرتکب ہو رہا ہے، ان کی برطرفی کے مطالبات بھی کیے گئے ہیں۔

اسی تناظر میں گذشتہ ماہ فرانس اور جرمنی نے دوحہ فورم کے دوران ان کے بیانات کے بعد ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انہوں نے ان مطالبات کو "باطل الزامات” اور ان کی باتوں کو "توڑ مروڑ کر پیش کرنے” پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قابض اسرائیل تشدد کے خلاف عالمی معاہدے کا فریق ہے، جو کسی بھی صورت میں تشدد یا ظالمانہ، غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک کے استعمال کی مکمل ممانعت کرتا ہے۔