
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی کی وزارت صحت نے پیر کے روز ایک دل دہلا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک سفر اور علاج کے منتظر مریضوں میں سے روزانہ 6 سے 10 افراد زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے عائد کردہ سفاکانہ پابندیوں اور معاصرِ صحت کی تباہی نے غزہ کے مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔
وزارت صحت کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر زاہر الوحیدی نے بتایا کہ سات مئی سنہ 2024ء کو جب سے قابض اسرائیل کی فوج نے رفح معبر پر قبضہ کیا ہے تب سے اب تک علاج کے منتظر 20 ہزار مریضوں میں سے 1400 دم توڑ چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک علاج کے لیے تڑپنے والے 6 سے 10 مریض روزانہ جان بحق ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات کی جانب توجہ دلائی کہ اس وقت 195 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے جن کی زندگیوں کو براہِ راست خطرات لاحق ہیں جبکہ اس زمرے میں شامل 300 مریضوں میں سے صرف یہی باقی بچے ہیں۔
زاہر الوحیدی نے خبردار کیا کہ اگر ان مریضوں کو فوری طور پر یعنی آئندہ چند گھنٹوں کے اندر اندر بیرون ملک منتقل نہ کیا گیا تو یہ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
انہوں نے مزید تصدیق کی کہ 1971ء ایسے ہنگامی کیسز موجود ہیں جنہیں چند ہفتوں کے اندر منتقل کرنا لازمی ہے ورنہ ایک ماہ کے اندر ان کی حالت بھی انتہائی خطرناک ہو جائے گی۔ ان مریضوں میں 4 ہزار معصوم بچے اور 4 ہزار کینسر (ٹیومر) کے مریض شامل ہیں جو قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی اور طبی محاصرے کا شکار ہیں۔
الوحیدی نے واضح کیا کہ گذشتہ 20 فروری سے رفح معبر کو کھولنے کے حوالے سے قابض اسرائیل کے دعوے محض دکھاوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کراسنگ چلایا جا رہا ہے وہ صورتحال کی سنگینی اور روزانہ مرنے والے مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ کے دوران صرف 490 مریضوں کو باہر جانے کی اجازت دی گئی جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں روزانہ 400 یا کم از کم 200 مریضوں کو باہر بھیجنے کی ضرورت ہے تاکہ اگلے 6 ماہ میں مریضوں اور زخمیوں کی فائلوں کو مکمل کیا جا سکے۔
طبی عہدیدار نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے مریضوں کو پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے جن میں سفر کی دشواریاں اور قابض اسرائیل کی جانب سے میڈیکل ریفرل کی منظوری کے طویل طریقہ کار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے اثرات نے بھی مریضوں کے سفر کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رفح کراسنگ کھلنے کے بعد سے قابض اسرائیل سخت ترین پابندیوں کے سائے میں روزانہ صرف 24 مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو جانے کی اجازت دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیل کی حکام نے ایران پر جارحیت کے بعد رفح کراسنگ کو بند کر دیا تھا جسے گذشتہ جمعرات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا لیکن اب بھی انسانی امداد کی ترسیل اور زخمیوں کے خروج پر غاصب دشمن کا مکمل کنٹرول ہے جبکہ غزہ کا نظامِ صحت مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

