
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی حکام تبادلے کے معاہدوں کے تحت رہا ہونے والے اسیران کو دوبارہ نشانہ بنانے، ان کی مسلسل گرفتاریوں کی مہم چلانے اور انہیں فیلڈ تحقیقات اور مسلسل پوچھ گچھ کے شکنجے میں کسنے کے سلسلے کو تیز تر کر رہے ہیں، تاکہ رہائی کے بعد بھی ان کا پیچھا کیا جا سکے۔
کلب برائے اسیران نے منگل کے روز جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ تازہ ترین گرفتار ہونے والوں میں قلقیلہ گورنری سے تعلق رکھنے والے متعدد رہا شدہ اسیران شامل ہیں، جن کے نام سامح الشوبکی، عمار الشوبکی، سعید ذياب، سائد الفايد اور ہادی جدوع ہیں۔ کلب نے اشارہ کیا کہ یہ گرفتاریاں ایک باقاعدہ منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات تبادلے کے معاہدوں کی دفعات کی ایک نئی خلاف ورزی ہیں اور رہا شدہ اسیران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی آزادی کے بعد بھی مسلسل نشانے پر رہیں گے اور ان کا پیچھا کیا جاتا رہے گا۔
کلب برائے اسیران نے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی دستاویزی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی پٹی پر لڑی جانے والی گذشتہ جنگ کے بعد ہونے والے تبادلے کے معاہدوں سے لے کر اب تک تقریباً 100 رہا شدہ اسیران کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ان میں سے کچھ کو ایک سے زائد بار حراست میں لیا گیا۔
بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے فوجی احکامات اور ایسی قانون سازی کے ذریعے اس پالیسی کو تقویت دی ہے جس نے انہیں رہا شدہ اسیران کے خلاف کارروائیوں کا وسیع تر ڈھانچہ فراہم کیا ہے۔ کلب نے زور دے کر کہا کہ یہ خلاف ورزیاں صرف رہائی کے بعد تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں جسمانی تشدد اور وہ دھمکیاں بھی شامل ہیں جو رہائی سے قبل اور بعد میں ان اسیران اور ان کے اہل خانہ کو دی گئیں۔
اسیران میڈیا آفس نے رپورٹ دی ہے کہ "طوفان الاحرار” معاہدے کے تحت رہا ہونے والے فلسطینی اسیران کی کل تعداد 3985 تک پہنچ گئی ہے، جنہیں سنہ 2023ء اور سنہ 2025ء کے درمیان تین مراحل میں رہا کیا گیا تھا۔ یہ قابض اسرائیل کے ساتھ تنازع کی تاریخ کے سب سے بڑے تبادلے کے معاہدوں میں سے ایک تھا۔

