مسجد اقصیٰ کی مسلسل 25 ویں روز تالہ بندی اور قبۃ الصخرہ کو اڑانے کی صہیونی اشتعال انگیزی

0
9

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر مسلسل 25 ویں روز بھی مسجد اقصیٰ کو بند رکھا اور وہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی برقرار رکھی ہے، جبکہ اس وقت القدس شہر سخت ترین اقدامات اور پرانے شہر کی گرد و نواح سے مکمل ناکہ بندی کا سامنا کر رہا ہے۔

مسجد اقصیٰ کی اس تالہ بندی کے ساتھ ساتھ قابض فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور فوجی رکاوٹوں کے قیام نے فلسطینیوں کو پرانے شہر تک پہنچنے سے روک دیا ہے، سوائے وہاں کے مستقل رہائشیوں کے۔ اس صورتحال نے بہت سے فرزندانِ توحید کو سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ معاشی زندگی مفلوج اور روزمرہ کے معمولات سمیت تعلیمی سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے۔

اسی تناظر میں غاصب آباد کاروں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک شدید اشتعال انگیز مہم دیکھی گئی، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ ایک ویڈیو کلپ نشر کیا گیا ہے جس میں قبۃ الصخرہ کو دھماکے سے اڑانے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس لرزہ خیز ویڈیو نے اسلامی مقدسات کے خلاف بڑھتی ہوئی صہیونی سفاکیت اور اشتعال انگیزی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی کنیسٹ کے سابق رکن موشے فیگلین کے بیانات نے بھی ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جنہوں نے بغیر کسی احتجاج کے مسجد اقصیٰ کی بندش پر بات کرتے ہوئے اسے قابض اسرائیل کی علاقائی طاقت کی علامت قرار دیا۔

سنہ 2026ء فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی اسرائیلی و امریکی جارحیت کے بعد سے قابض حکام نے مسجد اقصیٰ پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اس دوران رمضان المبارک کے بیشتر ایام اور نمازِ عید الفطر کی ادائیگی سے بھی روک دیا گیا، جو کہ صدیوں میں اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔

اس کے برعکس القدس میں عوامی سطح پر مسجد اقصیٰ کے گرد و نواح میں لگی رکاوٹوں کی طرف مارچ کرنے اور محاصرہ توڑنے کی اپیلیں تیز ہو گئی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے زور دے کر کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ فلسطینی کاز کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کے المناک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا سے فوری اور سنجیدہ اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر فلسطینی نیشنل کونسل نے "ٹیمپل ماؤنٹ” نامی تنظیموں کے ان منصوبوں سے خبردار کیا ہے جو اسرائیلی حکومت کے ساتھ مل کر تیار کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد مارچ کے آخر تک مسجد اقصیٰ کی بندش کو طول دینا ہے تاکہ اسے عبرانی "ایسٹر عید” کے دوران کھولا جا سکے، اس اقدام کو زمین پر ایک نیا مذہبی و جغرافیائی حقائق مسلط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش سکیورٹی بہانوں سے کہیں بڑھ کر ہے، جو اس عظیم اسلامی مقدس مقام میں زمانی اور مکانی تقسیم کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی صہیونی سازش کا حصہ ہے۔