
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب ایمبولینس عملے اور سول ڈیفنس کی ٹیموں کو ملبے تلے دبے افراد اور شاہراہوں پر موجود زخمیوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث شہداء کی اصل تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزارت صحت نے اپنی یومیہ شماریاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 شہداء کے جسد خاکی اور 11 زخمیوں کو غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں میدان میں انتہائی پیچیدہ اور کٹھن حالات میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، جہاں قابض دشمن کی کارروائیاں امدادی کاموں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شہداء کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے کے نیچے یا ایسے علاقوں میں موجود ہے جہاں تک پہنچنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انفراسٹرکچر کی بڑے پیمانے پر تباہی اور قابض اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ سکیورٹی خطرات کے باعث ان اجسادِ خاکی کو نکالنا تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
وزارت صحت نے وضاحت کی ہے کہ 11 اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک قابض دشمن کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 689 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1860 تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ ملبے سے مزید 756 افراد کو نکالنے کے کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023 سے شروع ہونے والی نسل کشی کی اس ہولناک مہم کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق، اب تک شہداء کی کل تعداد 72,265 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کا مجموعی عدد 171,959 تک پہنچ گیا ہے۔ وزارت صحت کے یہ سرکاری اعداد و شمار فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک لرزہ خیز تصویر پیش کر رہے ہیں۔


