قابض اسرائیل کے دفاعی نظام میں دراڑیں، عوام سے امتیازی سلوک، ناکامیوں نے بڑے سوالات کھڑے کر دیے

0
8

مرکز اطلاعات فلسطین

صہیونی ریاست سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بے نقاب کیا ہے کہ قابض اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام ملک کو مختلف درجوں میں تقسیم کر کے تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ یہ تقسیم آبادی کے تناسب، تنصیبات کی حساسیت اور خطرات کی نوعیت کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں، بالخصوص ایرانی میزائلوں کے سامنے، تحفظ کی فراہمی میں واضح تفریق نظر آتی ہے۔

عبرانی اخبار دی مارکر کی رپورٹ کے مطابق دشمن پر جوابی وار یا میزائل گرانے کا فیصلہ پیچیدہ الگورتھم کے تحت کیا جاتا ہے، جو حملے کی نوعیت (بیلسٹک میزائل، ڈرون یا راکٹ) اور ہدف کی جگہ کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک علاقے اور دوسرے علاقے کے دفاعی ردعمل میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ نقب کی چھوٹی بستیاں اس درجے کے تحفظ سے محروم ہیں جو تل ابیب جیسے مرکزی شہروں یا تیل صاف کرنے والے کارخانوں جیسی تزویراتی تنصیبات کو میسر ہے۔ تحفظ کی یہ سطح آبادی اور مقام کی اہمیت سے جڑی ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کچھ علاقے مخصوص میزائلوں سے تو محفوظ ہو سکتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے وہ تر نوالہ ثابت ہوتے ہیں۔

یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب گذشتہ ہفتے کے آخر میں دو ایرانی میزائل عراد اور دیمونا کے شہروں میں گرے، جنہیں روکنے میں قابض اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام رہا۔ اس حملے میں 150 کے قریب افراد زخمی ہوئے، جس نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا جنوبی علاقوں کی قیمت پر وسطی علاقوں کو بچانے کو ترجیح دی جا رہی ہے؟۔

اس کے ساتھ ساتھ دفاعی میزائلوں کی بھاری قیمت اور ان کی دستیابی نے بھی قابض ریاست کے حکام کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ انہیں انتہائی مہنگے امریکی میزائلوں یا نسبتاً کم قیمت والے اسرائیلی میزائلوں کے استعمال کے درمیان مشکل انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کے سابق ڈائریکٹر ران کوخاف نے اخبار کو بتایا کہ مسئلہ صرف قیمت کا نہیں بلکہ ان میزائلوں کے ذخیرے اور متبادل کا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کم لاگت والی دفاعی تہوں کو استعمال کرنے کی طرف مائل ہے، جبکہ حیتس جیسے جدید نظام انتہائی مہنگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حیفا جیسے تزویراتی علاقوں کو متعدد دفاعی تہیں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ ملک کے تمام حصوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ قابض اسرائیل جزوی طور پر تھاڈ اور SM-3 جیسے امریکی نظاموں پر بھی انحصار کر رہا ہے جن کا دائرہ کار محدود ہے۔

اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ گذشتہ تین ہفتوں میں ایران کی جانب سے 450 میزائلوں اور سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک مجموعی طور پر 1240 میزائلوں کے داغے جانے کے بعد قابض اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو واضح حدود کا سامنا ہے۔ میزائلوں کی تیاری میں تیزی کے باوجود بڑھتے ہوئے استعمال کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے، کیونکہ کامیابی کے لیے ایک ہدف کے خلاف ایک سے زیادہ میزائل داغنے پڑتے ہیں۔

ران کوخاف نے خبردار کیا ہے کہ جنگ طویل ہونے کی صورت میں دفاعی میزائلوں کے ذخیرے کو لامتناہی نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ اس کے معاشی اثرات صہیونی معیشت کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں۔