
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے جمعرات کی علی الصبح کے وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں جن میں فلسطینیوں کے گھروں پر حملے، تلاشی، مکینوں کو محصور کرنا اور انہیں میدانی تحقیقات کے نام پر ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
الخلیل کے شمال میں واقع العروب پناہ گزین کیمپ سے کلب برائے اسیران نے ایک نوجوان مجدی وائل البدوی کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے جبکہ الخلیل کے ہی جنوبی قصبے الظاہریہ پر دھاوا بولنے کے دوران قابض دشمن نے دو خواتین کو بھی حراست میں لے لیا۔
نابلس گورنری میں قابض اسرائیلی افواج نے جنوبی علاقے میں واقع قصبے زیتا جماعین پر حملہ کیا اور چار فلسطینی شہریوں کو اغوا کر لیا جن کی شناخت فتحی الحاییک، ضرار جاموس، عبود السلیم اور موسی العسراوی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
جنین گورنری میں قابض اسرائیلی درندوں نے شہر کے مشرق میں واقع گاؤں فقوعہ میں ایک نوجوان حسن ابو حامد کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کیا جبکہ طولکرم گورنری میں شہر کے جنوبی محلے پر یلغار کے دوران ایک اور نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا۔
فلسطینیوں کی یہ گرفتاریاں ان روزانہ کی مہمات کا حصہ ہیں جو قابض اسرائیلی افواج مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں چھاپوں اور گرفتاریوں کی مربوط پالیسی کے تحت انجام دے رہی ہیں تاکہ فلسطینیوں کی آواز کو دبایا جا سکے۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے انتہا پسند گروہوں نے گذشتہ پانچ دنوں کے دوران 109 حملے کیے ہیں جو ان وحشیانہ کارروائیوں میں اضافے کا واضح ثبوت ہے جن کا مقصد وسیع پیمانے پر فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانا ہے۔
ان حملوں کی شدت 21 سے 23 مارچ کے درمیان اپنے عروج پر رہی جہاں کئی گورنریوں میں سڑکوں اور نجی املاک کو بیک وقت تباہ کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں جس کی وجہ سے دیہات اور قصبوں میں سخت تناؤ اور خوف کی فضا برقرار ہے۔
صہیونی آباد کاروں کی اس سفاکیت کا سب سے زیادہ نشانہ نابلس گورنری بنی جہاں 38 پرتشدد واقعات ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد رام اللہ گورنری میں 23 اور الخلیل گورنری میں 21 حملے ہوئے جبکہ دیگر علاقوں میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان منظم حملوں کی نوعیت انتہائی خوفناک رہی جن میں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگانا بالخصوص نابلس کے جنوبی دیہات میں تباہی مچانا شامل تھا جبکہ زیتون کے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر اور فلسطینیوں کی زمینوں کو بلڈوز کر کے زرعی شعبے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور سکولوں و تعلیمی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
غاصب آباد کاروں نے سڑکوں پر فلسطینی گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے اور اہم راستوں کو بند کر کے شہریوں کو ہراساں کیا جبکہ دور دراز علاقوں میں محنت کش کسانوں پر براہ راست حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں بھاری مالی نقصانات ہوئے اور فلسطینیوں کے روزمرہ کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

