غزہ میں یلو لائن کے ذریعے نئی سرحدوں کا قیام اور نصف سے زائد پٹی پر غاصبانہ اسرائیلی قبضہ

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

حالیہ اعداد و شمار اور تجزیوں سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی کے اندر نام نہاد ’یلو لائن‘ کو مستحکم کرنے اور اسے بتدریج ایک حقیقی سرحدی لکیر میں تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ ان علاقوں سے واپسی کے کسی بھی واضح اشارے کی عدم موجودگی میں بڑھتی ہوئی فوجی تعیناتی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور مستقل فوجی ٹھکانوں کے قیام سے اس مذموم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔

عبرانی اخبار ہارٹز نے جمعرات کے روز سیٹلائٹ تصاویر اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قابض فوج نے گذشتہ مہینوں کے دوران اس لائن کے ساتھ اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے نئے فوجی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر کام کیا گیا ہے جبکہ بھاری سامان اور آلات کی منتقلی کے ساتھ ساتھ دسیوں کلومیٹر پر محیط مٹی کے پشتے بھی تعمیر کیے گئے ہیں جو اس لائن کو مستقل حیثیت دینے کی علامت ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ اکتوبر میں سیز فائر کے اعلان کے بعد سامنے آنے والی یہ لائن غزہ کی پٹی کے تقریباً 54 فیصد رقبے کو قابض اسرائیل کے کنٹرول میں لاتا ہے۔ صہیونی افواج میدانی طور پر سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر، عمارتوں کو منہدم کر کے اور اضافی علاقوں سے فلسطینی باشندوں کو زبردستی بے دخل کر کے اس خط کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے رہی ہیں۔

اس صورتحال میں تقریباً 21 لاکھ فلسطینی اس رقبے کے نصف سے بھی کم حصے میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں وہ سنہ 2023ء میں جنگ شروع ہونے سے پہلے مقیم تھے۔ یہ لوگ انتہائی سنگین انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں لاکھوں افراد خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ غزہ کی پٹی میں پہنچنے والی امداد کی مقدار میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

32 فوجی مراکز کا قیام

قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے تین ماہ قبل بیان دیا تھا کہ یلو لائن نئی سرحدی لکیر ہے اور انہوں نے اسے دفاعی و جارحانہ لائن قرار دیا تھا۔ زمین پر اس کے اثرات جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے سات نئے فوجی مراکز کے قیام کی صورت میں نظر آ رہے ہیں جن میں سے بعض کو طویل مدتی تعیناتی کے لیے تمام تر سہولیات سے لیس کیا گیا ہے۔

سیٹلائٹ تصاویر غزہ کی پٹی کے اندر درجنوں مقامات پر قابض فوج کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں جہاں کم از کم 32 فوجی مراکز قائم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ اس پیلے خط کے ساتھ اور کچھ غزہ کی پٹی کی گہرائی میں واقع ہیں جنہیں بجلی کے نیٹ ورک، روشنی کے انتظام، مواصلاتی ٹاورز اور انجینئرنگ کے بھاری سامان سے لیس کیا گیا ہے۔

یہ فوجی مراکز تزویراتی طور پر بلند مقامات پر قائم کیے گئے ہیں جن میں جبالیہ اور بیت حانون کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رفح میں حمد بن جاسم ہسپتال سمیت کئی موجودہ عمارتوں کے اطراف بھی یہ مراکز بنائے گئے ہیں۔

ان میں سے کچھ مراکز زرعی زمینوں اور رہائشی مکانات پر تعمیر کیے گئے ہیں اور یہاں تک کہ جنگ کے دوران شہید کی جانے والی مساجد اور قبرستانوں کے ملبے پر بھی قابض فوج قابض ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شجاعیہ جیسے دیگر علاقوں میں زمینوں کو بلڈوز کرنے کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔

تصاویر کے تجزیے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 17 کلومیٹر طویل مٹی کے پشتے تعمیر کیے جا چکے ہیں جو کہ 45 کلومیٹر طویل مجموعی خط کا تقریباً 40 فیصد حصہ بنتا ہے اور گذشتہ ہفتوں کے دوران اس کی توسیع کا کام مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

قتل و غارت گری کا تواتر

اقوام متحدہ کے فروری کے آخر تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس پیلے خط کے قریب یا اس کے مشرق میں کم از کم 224 فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارے نے اسے شہریوں کو نشانہ بنانے کا ایک متواتر نمونہ قرار دیا ہے جو جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کچھ متاثرین اس وقت شہید کیے گئے جب وہ اپنے گھروں کو واپس جانے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ زمین پر اس خط کی کوئی واضح حد بندی نہیں ہے اور یہ مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ دوسری طرف قابض اسرائیلی فوج درست تفصیلات فراہم کیے بغیر محض مسلح افراد کی موجودگی کے دعوے پر مبنی بیانات جاری کرتی ہے جبکہ شواہد بتاتے ہیں کہ نشانہ بننے والے اکثریت عام شہریوں کی تھی۔

تنظیم ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ مہینوں کے دوران اس خط کے گرد و نواح سے بڑی تعداد میں زخمیوں کا علاج کیا ہے جن میں سے اکثر وہ لوگ تھے جو پانی یا ایندھن کی تلاش میں تھے یا اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تنظیم نے مزید بتایا کہ پیلے خط کے مغرب کی طرف کھسکنے کی وجہ سے پانی کے پوائنٹس اور صحت کی سہولیات جیسے اہم مراکز خطرناک زون میں آ گئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی آبادی بنیادی خدمات سے محروم ہو گئی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق سیز فائر کے اعلان کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 691 فلسطینی شہید اور 1876 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اسی مدت کے دوران پانچ قابض اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

عالمی فورس اور حماس کی طاقت

دوسری جانب جنگ کے خاتمے کے امریکی منصوبے پر عمل درآمد کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جس میں غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی تجویز دی گئی تھی۔ ایران کے خلاف جنگ کے پیش نظر انڈونیشیا کی جانب سے اپنی شرکت معطل کرنے کے بعد اس منصوبے کی سیاسی اہمیت مزید کم ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ثالثوں نے حال ہی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کو ایک تجویز پیش کی ہے جس میں بتدریج غیر مسلح ہونے کی بات کی گئی ہے تاہم اندازوں کے مطابق حماس نے زمین پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے جبکہ دوسری طرف قابض اسرائیل کی فوجی موجودگی بھی برقرار ہے۔

قابض فوج نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اس کے دستے پیلے خط کے علاقے میں سیز فائر معاہدے اور سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق تعینات ہیں۔ صہیونی فوج کے مطابق اس دفاعی نظام میں مادی رکاوٹیں، انٹیلی جنس صلاحیتیں اور تکنیکی وسائل شامل ہیں تاکہ دراندازی کو روکا جا سکے۔

قابض دشمن نے مزید دعویٰ کیا کہ اس خط کے گرد و نواح کا علاقہ ایک خطرناک آپریشنل ماحول ہے جہاں انتباہی بورڈ نصب کر دیے گئے ہیں۔ صہیونی فوج نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کیا کہ وہ محض قریب آنے کی وجہ سے شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ صرف ان خطرات کے خلاف کارروائی کرتی ہے جو فوری نوعیت کے ہوں۔