
مرکزاطلاعات فلسطین
برطانیہ میں طبی ریگولیٹری اداروں کے اختیارات میں توسیع کی نئی حکومتی تجاویز نے ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے جس میں یہ سنگین خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا استعمال فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے اور غاصب صہیونی ریاست کی سفاکیت کے خلاف کھڑے ہونے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو سزا دینے کے لیے کیا جائے گا۔
برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے گذشتہ منگل کو طبی نگرانی کے نظام میں گذشتہ 40 سال کی سب سے بڑی اصلاحات کی منظوری دی ہے جس کے تحت ریگولیٹری اداروں کو ڈاکٹروں کی معطلی یا ان کے نام میڈیکل ریکارڈ سے حذف کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ وسیع اور تیز رفتار اختیارات فراہم کر دیے گئے ہیں۔
ان مجوزہ ترامیم کے تحت جنرل میڈیکل کونسل (جی ایم سی) اور پروفیشنل سٹینڈرڈز اتھارٹی (پی ایس اے) کو ایسے نئے اختیارات حاصل ہوں گے جو انہیں آزاد عدالتی اداروں، جیسے میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس (ایم پی ٹی ایس) کے فیصلوں سے تجاوز کرنے کے قابل بنائیں گے، جو کہ پہلے ریگولیٹری اداروں کی ممکنہ من مانیوں کو روکنے کے لیے ایک اہم سکیورٹی وال کے طور پر کام کرتے تھے۔
ان تبدیلیوں میں جنرل میڈیکل کونسل کو ان عدالتوں کے عبوری فیصلوں کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار دینا بھی شامل ہے جو خود کونسل کے دائر کردہ کیسز کی سماعت کرتی ہیں، جبکہ پی ایس اے کے اختیارات میں بھی فیصلوں پر نظرثانی اور اپیل کے حوالے سے غیر معمولی توسیع متوقع ہے۔
یہ تشویشناک اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی نظام صحت میں کام کرنے والے انسانیت دوست ڈاکٹروں اور نرسوں کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے پر اپنی ملازمت کی جگہوں پر مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر سینکڑوں ڈاکٹروں نے ایک احتجاجی درخواست پر دستخط کیے ہیں جس میں جنرل میڈیکل کونسل کی قیادت سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ کونسل نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں مشہور فلسطینی نژاد سرجن غسان ابو ستہ کو ان تمام الزامات سے بری کر دیا گیا تھا جو ان پر فلسطینی نصب العین کی حمایت کی وجہ سے لگائے گئے تھے اور جنہیں متعلقہ ٹریبونل نے پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔
پی ایس اے نے بھی "یو کے لائرز فار اسرائیل” نامی صہیونی لابی گروپ کے شدید دباؤ کے بعد غسان ابو ستہ کے خلاف اس اپیل میں شمولیت اختیار کی ہے جو براہ راست انتقامی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
ماہرین اور ڈاکٹروں نے ان اصلاحات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں آزاد اداروں کے اختیارات میں حکومتی مداخلت اور ریگولیٹری نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایمرجنسی میڈیسن کے لیکچرر اور ڈاکٹر جیمز سمتھ کا کہنا ہے کہ یہ قدم حکومت کی جانب سے حدود سے تجاوز کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے یہ خدشہ مزید پختہ ہو گیا ہے کہ ریگولیٹری ادارے اب مکمل طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے تابع ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غسان ابو ستہ کو دو بار تبرئت ملنے کے باوجود ان کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھنا انصاف اور قانون کی حکمرانی کا قتل ہے، اور نظام صحت میں موجود امتیازی سلوک کا حل خوف و ہراس پیدا کرنے اور تقسیم کو گہرا کرنے میں ہرگز پوشیدہ نہیں ہے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران طبی شعبے کے کئی ملازمین نے فلسطین کی حمایت میں علامات پہننے یا غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کے خلاف بیانات جاری کرنے کی پاداش میں ملنے والی سزاؤں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا ہے، ان کا دو ٹوک موقف ہے کہ یہ خیالات قانون کے تحت تحفظ یافتہ انسانی حقوق کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسی ماہ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے کنسلٹنٹس کی کانفرنس میں 88 فیصد شرکاء نے ڈاکٹروں کے اس حق کی بھرپور حمایت کی کہ وہ بین الاقوامی تنازعات اور انسانی حقوق کے قانون سمیت تمام عوامی معاملات پر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔
صحت کے شعبے میں سماجی انصاف کے لیے سرگرم تنظیم "میڈیکٹ” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا بیریس نے انکشاف کیا ہے کہ بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کو محض جنگ مخالف موقف اختیار کرنے اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرنے کی وجہ سے معطلی، ہراسانی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے ان مجوزہ ترامیم کو "سیاسی محرکات” پر مبنی قرار دیا جن کا واحد مقصد ان آزاد طریقہ کار کو کمزور کرنا ہے جو ڈاکٹروں کے منصفانہ احتساب کو یقینی بناتے ہیں تاکہ ان کی آزادی اظہار کو مکمل طور پر سلب کیا جا سکے۔
یہ خطرناک پیش رفت ایک بار پھر جنرل میڈیکل کونسل کے اختیارات کے گرد جاری اس قدیم بحث کو زندہ کر گئی ہے جو ڈاکٹر ہدیزہ باوا گربا کے کیس کے بعد شروع ہوئی تھی، جس میں کونسل سے عدالتی فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سنہ 2018ء میں ایک سرکاری جائزے میں بھی اس اصلاح کی پرزور سفارش کی گئی تھی لیکن قابض اسرائیل کی حامی لابیوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔


