غزہ میں بے گھر افراد کے خیموں پر دیوار گرنے سے متعد د شہری زخمی

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فو کی جانب سے کیے گئے کمزور سیز فائر کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جہاں اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد بڑھ کر 691 ہو گئی ہے اور 1,876 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسی مدت کے دوران 756 جسد خاکی بھی نکالے گئے ہیں۔

قابض اسرائیل کے توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں واقع بستیوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے ساتھ ساتھ فضائی بمباری، فائرنگ اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کے واقعات بھی رونما ہوئے، جبکہ دونوں اطراف سے صہیونی قبضے میں موجود رفح کراسنگ کی محدود فعالیت اور سخت محاصرے نے مظلوم فلسطینیوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

غزہ شہر کے وسطی علاقے کے قریب طوفانی بارشوں اور تند و تیز ہواؤں کے باعث ایک دیوار پناہ گزینوں کے خیموں پر گر گئی جس کے نتیجے میں دو فلسطینی زخمی ہو گئے۔

شہری دفاع نے اس افسوسناک واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی ہونے کے یہ دونوں واقعات شہر کے وسط میں شارع الوحدہ پر واقع ابو عاصی سٹیشن کے قریب پیش آئے۔

رات کے اوقات اور جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں آنے والے فضائی دباؤ اور موسمی تغیر کے باعث مختلف علاقوں میں مقیم ہزاروں پناہ گزین خاندانوں کی معاشی و جسمانی تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بارش کا پانی عارضی پناہ گاہوں اور کپڑے و پلاسٹک سے بنے ان خیموں کے اندر داخل ہو گیا جو موسمی اثرات سے بچاؤ کی کم از کم سہولیات سے بھی محروم ہیں، جس کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو پوری رات خیموں سے پانی نکالنے اور اپنے بچے کھچے سامان کو صہیونی غارت گری سے بچانے کی کوششوں میں گزارنی پڑی۔

ان پناہ گزین خاندانوں بالخصوص معصوم بچوں اور معمر افراد کو شدید سردی، کیچڑ کی بہتات اور خیموں کے گرد کھڑے گندے پانی کی وجہ سے انتہائی کٹھن طبی و ماحولیاتی حالات کا سامنا ہے، جبکہ قابض دشمن کی پابندیوں کے باعث گرمائش کے آلات، موسم سرما کے لباس اور واٹر پروف خیموں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

شہری دفاع نے پناہ گزینوں پر خراب موسم کے اثرات جاری رہنے کے خطرات سے خبردار کیا ہے اور غزہ کی پٹی میں جاری صہیونی نسل کشی کے باعث پیدا ہونے والی انسانی تباہی کو روکنے کے لیے واٹر پروف اور ہوا کے دباؤ کو سہنے والے خیموں سمیت ہنگامی پناہ گاہوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے دوران ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں طبی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کے نتیجے میں شہداء کی مجموعی تعداد 72,267 ہو گئی ہے جبکہ 171,976 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

طبی ذرائع نے مزید واضح کیا کہ انسانی صورتحال کی مسلسل ابتری کے درمیان گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں دو شہداء اور 17 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گذشتہ 11 اکتوبر کو سیز فائر کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد 691 تک جا پہنچی ہے، اس کے علاوہ 1,876 افراد زخمی ہوئے جبکہ اسی دورانیے میں 756 جسد خاکی ملبے سے نکالے گئے۔

ذرائع نے اس ہولناک صورتحال کی طرف توجہ دلائی ہے کہ شہداء کی ایک بڑی تعداد اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہے، جبکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ صہیونی فوج کی مسلسل فائرنگ اور زمینی حالات کی سنگینی کے باعث ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔