
مقبوضہ بیت المقدس ۔ مرکزاطلاعات فلسطین
مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان جام شہادت نوش کر گیا جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ المناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صیہونی فورسز نے اپنی چھاپہ مار کارروائیوں اور گرفتاریوں کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے اور دوسری جانب غاصب آباد کاروں کی سفاکیت میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
القدس کے مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 22 سالہ نوجوان مصطفٰی اسعد حمد مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ پر قابض اسرائیلی افواج کے حملے کے دوران لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں تین دیگر نوجوان بھی براہ راست گولیوں کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔
القدس گورنری کے مطابق قابض اسرائیلی فوجیوں نے کیمپ کے داخلی راستے پر موجود نوجوانوں کے ایک گروہ پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے جبکہ دشمن فوج نے ایک زخمی نوجوان کو حراست میں بھی لے لیا۔
گرفتاریوں کے اسی تسلسل میں قابض اسرائیلی افواج نے قلقيليہ شہر کے محلہ النقار پر دھاوا بولا اور سابق اسیر یاسر حماد اور ان کی صاحبزادی سابقہ اسیرہ اخلاص حماد کو ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کے بعد گرفتار کر لیا۔ واضح رہے کہ اخلاص حماد جلاوطن اسیر شادی عودہ کی اہلیہ ہیں۔
نابلس کے مغرب میں واقع العین کیمپ میں بھی قابض اسرائیلی فوج نے معاویہ بسیونی نامی نوجوان کے گھر پر چھاپہ مار کر سامان کی توڑ پھوڑ کی اور اسے گرفتار کر لیا، جبکہ طولکرم کے مشرق میں واقع قصبہ عنبتا سے محمد لطفی شحادہ نامی نوجوان کو اغوا کر لیا گیا۔
مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں صیہونی جارحیت کا سلسلہ جاری رہا۔ قابض اسرائیل نے رام اللہ کے شمال مشرق میں کفر مالک، سلفیت کے مغرب میں الزاویہ، قصبہ عنبتا کے علاوہ قلندیا کیمپ اور اريحا میں عقبہ جبر کیمپ پر یلغار کی۔ ان کارروائیوں کے دوران صوتی بموں اور لائیو گولیوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس سے فضا سہم کر رہ گئی۔
نابلس میں قابض اسرائیلی فوج بیت فوریک چوکی کے راستے شہر میں داخل ہوئی اور ایک ایمبولینس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، جبکہ پورے علاقے میں صیہونی فوجی نقل و حرکت اور ناکہ بندی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
دریں اثنا غاصب آباد کاروں نے جنین کے جنوب میں جبل الفندقومیہ کے علاقے پر دھاوا بولا اور روشنی پھیلانے والے بم فائر کیے۔ یہ حملہ فلسطینی علاقوں پر آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی منظم سفاکیت کا ایک اور ثبوت ہے۔
طبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ باقہ الشرقیہ میں دیوارِ فاصل کے قریب ایک نوجوان ہاتھ اور ران پر گولیوں کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ الخلیل کے شمال میں واقع العروب کیمپ میں جھڑپوں کے دوران قابض اسرائیل کی گولی لگنے سے ایک 14 سالہ بچہ زخمی ہو گیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی دشمن کی یہ حالیہ سنگین کارروائیاں اور روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی غارت گری فلسطینیوں کی نسل کشی کی اس منظم مہم کا حصہ ہے جسے غاصب آباد کاروں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
ان لرزہ خیز مظالم کے ردعمل میں فلسطینی عوامی حلقوں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں مزاحمت کو تیز کرنے اور غاصب اسرائیلی دشمن اور اس کے کارندوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور اپیلیں کی گئی ہیں۔


