
مرکزاطلاعات فلسطین
القدس گورنری نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے القدس میں لاطینی پیٹریاارک کارڈینل پیئرباتیسٹا پیزابیلا اور ارض مقدسہ کے نگہبان فادر فرانشیسکو ایلبو کو کنیسہ القیامہ (چرچ آف دی ہولی سیپلکر) پہنچنے اور کھجوروں کے اتوار (پام سنڈے) کی عبادات کی ادائیگی سے روکنا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام وہاں کے قائم شدہ قانونی و تاریخی تشخص اور بغیر کسی رکاوٹ کے عبادت گاہوں تک رسائی کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے جو کہ ایک غیر قانونی اور بلا جواز عمل ہے۔
القدس گورنری نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدسات پر قابض اسرائیل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایک قابض قوت ہونے کے ناطے اسرائیل اس بات کا پابند ہے کہ وہ فوری طور پر مذہبی مقدسات کی ناکہ بندی بند کرے اور عبادت گزاروں کی وہاں تک رسائی میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہے۔
گورنری نے مزید اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تناظر میں تمام قابض اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق باطل اور کالعدم ہیں۔ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے حقوق پر کھلم کھلا حملہ اور مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت کی واضح خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی کی توہین ہیں۔
گورنری نے وضاحت کی کہ یہ جابرانہ اقدام قابض حکام کی اس منظم پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد القدس میں عبادت کی آزادی کو سبوتاژ کرنا اور مقدس مقامات کے انتظام پر اپنا کنٹرول مسلط کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اسلامی اور مسیحی مقدسات کو بیک وقت نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کہ ایک خطرناک اشتعال انگیزی ہے اور شہر کی مذہبی و تاریخی کثرت پسندی کی روح پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔
القدس گورنری نے عالمی برادری اور تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک سخت عالمی موقف اپنائیں جو قابض اسرائیل کو القدس میں اسلامی اور مسیحی مقدسات کے خلاف اپنی مسلسل غیر قانونی کارروائیاں اور خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے۔ ساتھ ہی تمام عقیدت مندوں کے لیے عبادت کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس غاصبانہ قبضے کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے اور فلسطینی عوام اور ان کے مقدس مقامات کے خلاف جاری سفاکیت پر قابض دشمن کا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔
القدس گورنری نے اپنے بیان کا اختتام اس عہد کے ساتھ کیا کہ القدس اپنے اسلامی اور مسیحی مقدسات سمیت ہمیشہ اپنے حقیقی وارثوں کا رہے گا۔ طاقت کے بل بوتے پر نیا رخ مسلط کرنے کی قابض دشمن کی تمام تر کوششیں ناکام ہوں گی اور وہ اپنی سفاکیت اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے نہ تو اس شہر کی شناخت بدل سکتا ہے اور نہ ہی اس کی تاریخ کو مسخ کر سکتا ہے۔

