
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ دہشت گرد قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سول پولیس کی چوکیوں کو نشانہ بنانا اور پولیس اہلکاروں سمیت نو شہریوں کی شہادت قابض فاشسٹ حکومت کے فلسطینی عوام کے خلاف جاری جرائم کا تسلسل ہے۔
حماس نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ نشانہ بازی وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کا حصہ ہے اور اس کا مقصد غزہ کی پٹی میں افراتفری پھیلانا اور زندگی کو معمول پر لانے کی ہر کوشش کو ناکام بنانا ہے۔
حماس نے عالمی برادری اور غزہ میں سیز فائر معاہدے کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گرد بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی جانب سے معاہدے کی اس کھلی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔
بیان میں ثالثوں پر بھی زور دیا گیا کہ وہ قابض اسرائیل کو نہتے شہریوں اور شہری اداروں پر حملے بند کرنے کا پابند بنائیں، ان جرائم پر اس کا محاسبہ کریں اور غزہ کے عوام کی امداد، انہیں بحالی کے قابل بنانے اور قابض اسرائیل کی پیدا کردہ انسانی تباہی کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔
غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ کے مطابق قابض اسرائیل نے نسل کشی کی اس جنگ کے دوران اب تک 2800 سے زائد پولیس اہلکاروں کو شہید کیا ہے جن میں سے درجنوں کو سیز فائر کے بعد نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔

