
مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے پانچ فلسطینی اسیران اتوار کے روز ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے عملے کے ہمراہ شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچ گئے۔ ان اسیران کو قابض اسرائیلی افواج نے کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کیا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے غزہ کے قیدیوں کو مسلسل جبری طور پر لاپتہ رکھنے اور ان پر ڈھائی جانے والی سنگین سفاکیت کے حوالے سے انتباہات میں شدت آگئی ہے۔
طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ رہا ہونے والے اسیران جب ہسپتال پہنچے تو ان کی جسمانی حالت ناگفتہ بہ تھی، جس کے باعث انہیں فوری طور پر ضروری معائنے اور طبی امداد کے لیے وارڈز میں منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی علامات سے واضح ہوتا ہے کہ دوران حراست ان اسیران کو شدید تشدد اور بدترین سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رہا ہونے والے اسیران میں 24 سالہ محمد خمیس سعید سعد اللہ شامل ہیں جن کا تعلق شیخ عوادین کے علاقے سے ہے اور انہیں سدی تیمان کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں رکھا گیا تھا۔ دیگر اسیران میں مشرقی غزہ کے محلہ التفاح سے تعلق رکھنے والے 63 سالہ سہیل محمد سعد صالح غباین شامل ہیں جو عوفر جیل میں قید تھے، علاوہ ازیں الجلاء کے علاقے سے 23 سالہ عمر ناہد عبدالقادر بنات، دير البلح سے 25 سالہ سراج محمد حمید ابو قاسم اور خان یونس کے علاقے عبسان سے 24 سالہ احمد محمود عبدالعزیز ابو عنزہ شامل ہیں جنہیں سدی تیمان اور جلبوع کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں منتقل کیا جاتا رہا تھا۔
دوسری جانب فلسطینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے سینکڑوں اغوا شدہ شہریوں کو اب بھی حراست میں رکھا گیا ہے۔ قابض اسرائیل ان کے مقامِ قید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکاری ہے اور ان کے اہل خانہ یا وکلاء کو ان سے رابطے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق جبری گمشدگی کے زمرے میں آنے والا ایک جنگی جرم ہے۔
حال ہی میں رہا ہونے والے اسیران کے بیانات سے یہ ہولناک انکشافات ہوئے ہیں کہ قیدیوں کو بدترین تشدد، شدید مار پیٹ، نیند سے محرومی، طبی غفلت اور جنسی تشدد جیسے غیر انسانی ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ یہ اسیران ایسے سنگین حالات میں قید ہیں جو کم از کم انسانی معیار سے بھی گرے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں اور سلامتی کے بارے میں شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ غزہ کے قیدیوں کی صورتحال پر فوری طور پر آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ وہ عالمی برادری سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ تمام لاپتہ فلسطینیوں کی قسمت کے بارے میں فوری آگاہ کرے اور بین الاقوامی انسانی قانون اور تشدد کے خلاف کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


