
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی کے باسیوں کے خلاف قابض اسرائیل کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر قتل و غارت گری کے سلسلے میں سیز فائر کے اعلان کے بعد سے کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس سفاکیت کے ساتھ ساتھ محاصرے میں بھی مزید سختی کر دی گئی ہے، باوجود اس کے کہ مزاحمت کاروں نے معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کی ہے، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل نے تمام ثالثوں کی کوششوں کے باوجود اس معاہدے کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنے اور اسے ختم کرنے کا واضح فیصلہ کر لیا ہے۔
حازم قاسم نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ دشمن کا یہ رویہ ثالثوں، ضامن ممالک اور امن کونسل سے اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ معاہدے کے حوالے سے اپنا واضح اور دو ٹوک موقف سامنے لائیں، کیونکہ قابض اسرائیل اس معاہدے سے مکمل طور پر انحراف کر چکا ہے اور جان بوجھ کر اس کے تمام راستوں کو مسدود کرنے پر تلا ہوا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی روزانہ کے قتل عام، سخت ترین محاصرے اور مسلسل دم گھونٹنے والی پالیسیوں کے سائے میں ایک لامتناہی قتل گاہ بن چکی ہے، جس کے ساتھ ساتھ انسانی بنیادوں پر تباہ کن حالات اور تعمیر نو کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں فضائی و توپ خانے کی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025 اکتوبر سے سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک جام شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد 704 ہو چکی ہے، جبکہ 1013 افراد زخمی ہوئے اور 756 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو جنگ کے آغاز سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72,580 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172,013 تک جا پہنچی ہے، جو غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔

