
مرکزاطلاعات فلسطین
مرکزِ فلسطینی برائے حقوقِ انسانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سنہ 2025ء کے غزہ سے متعلق منصوبے کے اثرات پر سخت خبردار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کو تقویت دیتا ہے، جسے رپورٹ میں جاری نسل کشی کے جرم کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔
مرکز نے ایک حالیہ پوزیشن پیپر میں امریکی منصوبے کے مندرجات کی شدید مذمت کی ہے جسے غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بالخصوص حقِ خودارادیت اور اپنی زمین پر باقی رہنے کے حق سے تجاوز کرتا ہے اور "انسانی ہمدردی کے حل” کی آڑ میں اجتماعی طور پر جڑیں اکھاڑنے کی پالیسیوں کو دوبارہ پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایسی تجاویز جن میں غزہ کے باشندوں کی منتقلی یا انہیں غزہ کی پٹی سے باہر ہجرت پر اکسانا شامل ہے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جبری جلاوطنی کا جرم ہے اور یہ انسانیت کے خلاف جرم کے زمرے میں آتا ہے، خاص طور پر جاری جنگ کے تناظر میں جس نے بڑے پیمانے پر تباہی اور شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔
مرکز نے نشاندہی کی کہ امریکی منصوبہ فلسطینیوں کی شمولیت یا ان کی سیاسی نمائندگی کے بغیر تیار کیا گیا ہے، جو مرکز کے تخمینے کے مطابق قومی مرضی سے ہٹ کر سیاسی اور سکیورٹی انتظامات مسلط کرنے کی ایک کوشش ہے۔یہ غزہ پر ایک نئی قسم کی سرپرستی یا بالواسطہ قبضے کو مسلط کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ منصوبے کی بعض دفعات، بشمول عبوری حکومت کے انتظامات اور بین الاقوامی نگرانی، جنگ کے دوران ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کے احتساب کو نظر انداز کرتی ہیں اور انصاف و متاثرین کے حقوق کی قیمت پر سکیورٹی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔
اسی تناظر میں مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کا آغاز فوری سیز فائر، شہریوں کے تحفظ کی ضمانت اور انسانی بنیادوں پر راستے کھولنے سے ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو بغیر کسی پابندی کے غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر کے قابل بنایا جائے تاکہ ان کا اپنی زمین پر قیام یقینی ہو اور ہجرت کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کیا جا سکے۔
مرکز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منصفانہ اور مستقل حل صرف بین الاقوامی قوانین کے قواعد اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے احترام سے ہی ممکن ہے، تاکہ قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو ان کے مکمل حقوق استعمال کرنے کے قابل بنانے کی ضمانت دی جا سکے اور حقوق کی قیمت پر نئے حقائق مسلط کرنے والے کسی بھی منصوبے کو دور رکھا جائے۔


