طولکرم کے مشرق میں عناب چوکی پر قابض اسرائیل کی فائرنگ سے جنین کا نوجوان شہید

0
11

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی شہری امور کی جنرل اتھارٹی نے وزارت صحت کو آگاہ کیا ہے کہ پیر کی صبح طولکرم شہر کے مشرق میں واقع عناب فوجی چوکی پر قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں جنین گورنری کے قصبے جلبون سے تعلق رکھنے والا 31 سالہ نوجوان عبد الرحمن حمزہ ابو الرب شہید ہو گیا ہے۔

مقامی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے آج صبح طولکرم کے مشرق میں عناب فوجی چوکی سے گزرنے والی ایک گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں وہاں موجود نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔

اس موقع پر ہلال احمر فلسطین نے اعلان کیا کہ چوکی کے قریب گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد جب ان کے عملے نے جائے وقوعہ پر پہنچنے کی کوشش کی تو قابض افواج نے انہیں زخمی تک رسائی سے روک دیا اور طبی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی۔

قابض افواج نے چوکی پر قائم گیٹ کو بند کر دیا اور دونوں طرف سے آنے والی گاڑیوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا جس سے علاقے میں آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی۔

مغربی کنارے میں جاری کشیدگی اور سفاکیت کے اسی تسلسل میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب الخلیل کے جنوب میں واقع قصبے دورا میں بھی قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید ہو گیا جبکہ طولکرم اور مقبوضہ القدس کے شمال میں واقع الرام قصبے میں دو دیگر فلسطینی زخمی ہوئے۔

قابض فوج نے اپنے روایتی جھوٹے دعوؤں پر مبنی بیان میں الزام لگایا کہ دورہ میں صہیونی فوج نے ایک نوجوان پر اس وقت گولی چلائی جب اسے مبینہ طور پر چاقو سے مسلح ہو کر ان کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا گیا اور اسے شہید کرنے کے لیے بے بس (نیوٹرلائز) کرنے کی اصطلاح استعمال کی۔

اسی طرح قابض فوج نے الرام کے علاقے میں پیش آنے والے ایک الگ واقعے کے بارے میں کہا کہ اس کے اہلکاروں نے گاڑی چلانے والے ایک شخص پر اس لیے گولی چلائی کیونکہ وہ خطرناک انداز میں گاڑی چلا رہا تھا تاہم اس دوران صہیونی فوجیوں کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

طولکرم گورنری میں پیر کی صبح عنبتا قصبے کے مشرق میں عناب فوجی چوکی کے قریب قابض افواج نے ایک فلسطینی شہری کو گاڑی چڑھانے کی مبینہ کوشش کا الزام لگا کر گولیوں کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ قابض افواج نے چوکی کے قریب سے گزرنے والی ایک سویلین گاڑی پر براہ راست فائرنگ کی۔

ہلال احمر فلسطین نے دوبارہ اس امر کی تصدیق کی کہ قابض افواج نے ان کے عملے کو زخمی تک پہنچنے سے باز رکھا اور چوکی کے دروازے بند کر کے ٹریفک کی روانی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا جس سے زخمی فلسطینی کی زندگی بچانے کی تمام کوششیں دم توڑ گئیں۔

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ فوج نے طولکرم کے قریب ایک فلسطینی پر گاڑی چڑھانے کے شبہ میں فائرنگ کی ہے جبکہ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں نے ایک گاڑی کو خطرناک رفتار سے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کے ڈرائیور کو نشانہ بنا کر بے بس کر دیا۔

واضح رہے کہ مغربی کنارے میں یہ تصدیق شدہ جارحیت آٹھ اکتوبر سنہ 2023 ء کو غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مسلسل جاری ہے جس کے دوران قابض فوج اور غاصب آباد کاروں نے اپنے حملوں قتل و غارت گری گرفتاریوں اور گھروں کی مسماری کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم تیز کر رکھی ہے۔

فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اس وحشیانہ مہم کے نتیجے میں اب تک 1137 فلسطینی شہید اور تقریباً 11 ہزار 700 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ قریباً 22 ہزار افراد کو گرفتار کر کے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں ڈال دیا گیا ہے۔