0
8

دنیا بھر میں فلسطین کے حوالے سے پھیلے مختلف بیانیوں میں قاری اگر کسی پہلو کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ فلسطینی عوام کے داخلی احساسات اور ان کے مابین کے رجحانات ہیں ۔ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ فلسطین پر اسی وقت ارتکاز کرتے ہیں جب ان کے پھول سے بچے باردو کے آتشیں ریشوں سے لالہ زار ، کسی ہسپتال کے ننگے فرش پر تڑپ رہے ہوں ، شہیدوں کی برہنہ لاشوں کو ڈھانپے کے لیے سفید کفن نہ مل سکے اور ماؤں کے آنچل اپنے جگر پاروں کا لہو چھپانے سے عاجز نظر آئیں۔ ایک پہلو جو اس صورت حال میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ فلسطینی عوام کے اپنے تاثرات اور معاشرتی سطح پر ان کے خیالات ہیں ۔ مرید البرغوثی کی شاہکار تخلیق ” ولدت ھناک ولدت ھنا ” انہی غم آگیں احساسات کا ایک نگار خانہ ہے ، جس کا اردو ترجمہ میرے سامنے ہے۔

مرید نے اپنے داخلی احساس اور فلسطینی سرزمین کی ملال آسا نقش کاریوں کو اس آئینہ خانے میں کچھ اس انداز سے سجایا کہ یہ عالمی سطح کی شاہکار ادبی تخلیق بن گئی۔ مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے ، خود مرید کو بہترین ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا اور وہ فلسطین کے اندر کی دنیا کو اپنے البیلے اسلوب کے دل آویز بہاؤ میں خوبصورتی سے برت کر امر ہوگئے ۔

یہ کتاب مرید کے دوسرے سفر فلسطین کی روداد ہے ، جس کا آغاز ایک سفر نامے کے طرز پر ہوتا ہے اور یہ ہر سطر کے ساتھ صنفی حدود کو توڑتے ہوئے ایک ایسے دلکش آبشار میں بدل جاتی ہے جس کا ہر ذرہ شام کی شنگرفی دھوپ میں قوس قزح کے مختلف رنگوں کی تعبیر بن جائے۔ شمس الرحمن فاروقی نے کسی تخلیق کی عظمت کے طور پر ایک خوبی یہ بھی شمار کرائی ہے کہ وہ مروج اصناف سخن سے ماورا اپنی ایک الگ دنیا تعمیر کرتی نظر آئے ، مرید البرغوثی کا تراشیدہ یہ جوہر اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔

کسی زبان کے بہترین ادب کو دوسری زبان میں منتقل کرنا جوکھوں کا کام ہے ۔ مصنف کے اسلوب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے پروئے گئے احساسات کی جھلملاتی لڑی کچھ یوں سنبھالنی پڑتی ہے کہ ایک موتی بھی ادھر سے ادھر نہ ہو ۔ پھر ترجمے کی سلاست ، اصل متن سے اس کا قرب ، ترجمے میں زبان و بیان کی خوبیاں برتتے ہوئے لسانی تقاضوں کو پورا کرنا ، اغلاق و پیچیدگی سے دور تعبیرات کے ذیل میں اصل شاہکار کو اس ادا سے باقی رکھنا کہ اس پر مستقل تخلیق کا گمان ہو نہ ہی لفظی ترجمے کا شائبہ ؛ یہ ایک ماہر فن اور دونوں زبان کی نزاکتوں سے واقف شخص کی ذمہ داری ہے ۔ نایاب حسن اس خوبصورت ترجمے کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ ان ذمہ داریوں پر بہ خوبی اترے ہیں اور مرید کی اس گل گشت کو اردو میں ایسے مرتب کرگئے ہیں کہ بعض جگہ صفحوں کے صفحے نشان زد اور ہائی لائٹ کرنے کے قابل نظر آئے ۔ یہ نایاب حسن کا پہلا ادبی کام نہیں ، اس سے پہلے بھی وہ ” میں نے رام اللہ دیکھا” اور "ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی محرومی "جیسے بہترین ترجمے اردو کو دے چکے ہیں ۔ کہیں جاتا نہیں رستہ ہمارا ان کی تخلیقات میں ممتاز اضافہ ہی نہیں ؛ ان کی ادبی پرواز کے لیے ایک نئے افق کا راستہ ہے ۔

کتاب اس قابل ہے کہ ہر اردو قاری ایک بار ضرور پڑھے اور اپنے محبین اردو ، شائقین عالمی ادب اور فلسطین پر نظر رکھنے والے احباب کو تجویز کرے ۔ شیدائیان ادب نگارشات سے نہایت مناسب قیمت میں حاصل کرکے مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں