یروشلم، یروشلم از نعیم صدیقی

0
94

لہو اگل رہا ہے آج، میرا پر فنوں قلم

شکست آرزو کا کیا، فسانہ ہو سکے رقم

خیال پرزے پرزے ہیں، کروں میں کس طرح بہم

یروشلم ، یروشلم !

یروشلم ، یروشلم ، تو اک حریم محترم

ترے ہی سنگ در پہ آج منھ کے بل گرے ہیں ہم

مجھے دیا ہے ہاتھ سے ، یہ زخم دل به چشم نم

یروشلم ، یروشلم !

جہاں کی سماری راحتیں سپر دسیل نارکیں

کئی ہزار میتیں ، گلی گلی نثار کیں

ترے وقار کے لیے ، لہو د یا قدم قدم

یروشلم ، یروشلم !

یہیں سے ہو کے عرش کو، سواری نبی گئی

ابھی تک ان فضاؤں میں ہے اک مہک بسی ہوئی

یہاں کی خاک پر ٹکے ، براقِ نور کے قدم

یروشلم ، یروشلم !

نماز بے مثال یاں ، وہ کی گئی ہے اک ادا

بہ اقتدائے مصطفیٰ، حبیب خاص کبریا

کھڑے تھے اک قطار میں ملا کے انبیا قدم

یروشلم ، یروشلم !

تباط یہو دیاں ، رہے ؟ نہیں، کبھی نہیں

یہ ظلم ایسا ظلم ہے کہ جس کی تاب ہی نہیں

میں دیکھتا ہوں آج پھر ”صلاحِ دین “ کا علم

یروشلم ، یروشلم !

به راه داستان دل، مہیب حادثوں کے موڑ

صدارتوں کی سازشیں، سفارتوں کے جوڑ توڑ

مثال زلف یار ہیں ، سیاستوں کے پیچ و خم

یروشلم ، یروشلم !

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں