لہو اگل رہا ہے آج، میرا پر فنوں قلم
شکست آرزو کا کیا، فسانہ ہو سکے رقم
خیال پرزے پرزے ہیں، کروں میں کس طرح بہم
یروشلم ، یروشلم !
یروشلم ، یروشلم ، تو اک حریم محترم
ترے ہی سنگ در پہ آج منھ کے بل گرے ہیں ہم
مجھے دیا ہے ہاتھ سے ، یہ زخم دل به چشم نم
یروشلم ، یروشلم !
جہاں کی سماری راحتیں سپر دسیل نارکیں
کئی ہزار میتیں ، گلی گلی نثار کیں
ترے وقار کے لیے ، لہو د یا قدم قدم
یروشلم ، یروشلم !
یہیں سے ہو کے عرش کو، سواری نبی گئی
ابھی تک ان فضاؤں میں ہے اک مہک بسی ہوئی
یہاں کی خاک پر ٹکے ، براقِ نور کے قدم
یروشلم ، یروشلم !
نماز بے مثال یاں ، وہ کی گئی ہے اک ادا
بہ اقتدائے مصطفیٰ، حبیب خاص کبریا
کھڑے تھے اک قطار میں ملا کے انبیا قدم
یروشلم ، یروشلم !
تباط یہو دیاں ، رہے ؟ نہیں، کبھی نہیں
یہ ظلم ایسا ظلم ہے کہ جس کی تاب ہی نہیں
میں دیکھتا ہوں آج پھر ”صلاحِ دین “ کا علم
یروشلم ، یروشلم !
به راه داستان دل، مہیب حادثوں کے موڑ
صدارتوں کی سازشیں، سفارتوں کے جوڑ توڑ
مثال زلف یار ہیں ، سیاستوں کے پیچ و خم
یروشلم ، یروشلم !


