
مرکزاطلاعات فلسطین
فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے سنہ 2025 کے دوران فلسطینیوں کی لگ بھگ 6 ہزار دونم اراضی ہتھیا لی ہے، جو زمین پر کنٹرول مضبوط کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں نئے حقائق مسلط کرنے کی ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے۔
ادارے نے پیر کے روز "یوم ارض” کے موقع پر جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا کہ قابض اسرائیل نے گذشتہ سال کے دوران زمین پر قبضے کے 94 احکامات جاری کیے جن کے ذریعے تقریباً 2,609 دونم اراضی قبضے میں لی گئی، اس کے علاوہ ملکیت کے تین احکامات کے ذریعے 1,731 دونم اور تین دیگر احکامات کے ذریعے 1,231 دونم اراضی کو "ریاستی زمین” قرار دے کر فلسطینیوں کو ان کے قدرتی وسائل سے محروم کرنے اور الحاق کی پالیسی کو آگے بڑھایا گیا۔
اسی تناظر میں فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت سے لے کر 10 مارچ سنہ 2026 تک شہداء کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں غزہ کی پٹی میں 72,134 شہداء شامل ہیں، ان شہداء میں تقریباً 18,500 بچے اور 12,400 خواتین شامل ہیں، جبکہ 11,200 افراد لاپتہ ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 82 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی افواج اور آباد کاروں کے حملوں کے نتیجے میں 1,116 فلسطینی شہید اور 9 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
تباہی کے حوالے سے دیکھا جائے تو قابض اسرائیل نے جارحیت کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 2 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ کر دی ہیں، جبکہ تخمینوں کے مطابق کم از کم 3 لاکھ 30 ہزار رہائشی یونٹس مکمل یا جزوی طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، جو کہ غزہ کی پٹی کے کل رہائشی یونٹس کا 70 فیصد سے زائد بنتا ہے، اس کے علاوہ سکول، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، سرکاری دفاتر اور ہزاروں اقتصادی و بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا گیا ہے جس نے غزہ کی پٹی کو زندگی کے لیے ناقابل رہائش بنا دیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کی افواج نے سنہ 2025ء کے دوران لگ بھگ 1400 عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر مسمار کیا، جن میں القدس گورنری کی 258 تنصیبات شامل ہیں، اس کے علاوہ بغیر اجازت تعمیرات کا بہانہ بنا کر مسماری کے 991 نوٹس جاری کیے گئے۔
میدانی صورتحال میں آباد کاروں نے اپنی سفاکیت میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں پیر کی فجر کو انہوں نے الخلیل کے شمال مشرق میں واقع قصبے سعیر میں دو گاڑیاں نذر آتش کر دیں اور متعدد بھیڑیں چوری کر لیں، ساتھ ہی شہریوں کے گھروں پر نسل پرستانہ نعرے درج کیے، جبکہ قریبی علاقے المنیا میں بھی فلسطینی گھروں پر حملہ کر کے گاڑیاں جلانے کی کوشش کی جسے مقامی لوگوں نے ناکام بنا دیا۔
دیوار فاصل اور آباد کاری مزاحمتی اتھارٹی کے مطابق 28 فروری کو ایران پر شروع ہونے والی اسرائیلی امریکی جنگ کے بعد سے اب تک آباد کاروں نے 443 حملے کیے ہیں، جو کہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کا واضح اشارہ ہے۔


