
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی فوج کے غزہ ڈویژن کے کمانڈر کے بیانات، جن میں حماس پر اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے، سراسر جھوٹے اور بے بنیاد دعوے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ الزامات دراصل قابض دشمن کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کو جواز فراہم کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
حازم قاسم نے ہفتے کے روز اپنے اخباری بیان میں مزید کہا کہ قابض اسرائیلی فوج کے غزہ ڈویژن کے کمانڈر کا یہ اصرار کہ پیلی لائن (یلو لائن) سے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ غزہ میں دوبارہ لڑائی شروع کرنے کے موقع کے منتظر ہیں، سیز فائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ بیان قابض اسرائیل کے اس مستقل ارادے کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے ثالثوں، ضامن ممالک اور نام نہاد امن کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر اپنا واضح موقف اختیار کریں اور اس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے میں طے شدہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرے، کیونکہ فلسطینی مزاحمت اس معاہدے کی مکمل پابندی کر رہی ہے۔
قابض اسرائیل کی افواج گذشتہ 10 اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر اور جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں میں فضائی و بحری حملے، توپ خانے کی گولہ باری اور فوجی گاڑیوں سے فائرنگ کے ساتھ ساتھ پٹی کے مختلف علاقوں میں شہری عمارتوں اور تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کی سفاکیت شامل ہے۔
ان مجرمانہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 715 شہری جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور 1,968 دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران ملبے کے نیچے سے 756 شہدا کے جسد خاکی نکالے گئے۔
وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے آغاز سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 72,291 تک پہنچ گئی ہے جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 172,068 ہو چکی ہے۔

