ایران کو جنگ کیسے ختم کرنی چاہیے از جواد ظریف

0
362

امریکی میگزین "فارن افئیرز ” میں جناب جواد ظریف کا ایک طویل مضمون 3 اپریل 2026 کو شائع ہوا، میں نے یہ مضمون محفوظ کر لیا تھا اور کل رات اس کا مطالعہ کیا۔مضمون حالیہ جنگ کے حوالے سے بہت اہم ہے ۔محمد جواد ظریف یونیورسٹی آف تہران میں گلوبل اسٹڈیز کے استاد ہیں۔اس سے قبل وہ ایرانی نائب صدر، وزیر خارجہ اور یو این میں ایران کے مستقل مندوب کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

کے نام سے ایک تھنک ٹینک کے صدر بھی ہیں۔ Possibilities Architect

امریکی میگزین فارن افئیرز کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہوں گے کہ امریکہ کا معتبر جریدہ ہے جو بین الاقوامی سیاست اور اقتصادیات کے حوالے سے گراں قدر تجزیے شائع کرتا ہے۔اس : "How Iran should end the war "میں جواد ظریف کے شائع ہونے والے ارٹیکل کا عنوان ہے:

ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی، گزشتہ ایک ماہ کی جنگ میں فاتح ایران ہی رہا۔اس عرصے میں اسرائیل اور امریکہ کی فوجوں نے ایران پر تباہ کن بمباری کی، اس امید پر کہ اس تباہ کن بمباری کے ذریعے وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ایران میں ہزاروں افراد اور سینکڑوں عمارتیں اس بمباری سے تباہ ہو گئیں اس کے باوجود ایران کامیابی سے اپنا دفاع کرتا رہا، اس کی صف اول کی سیاسی اور عسکری قیادت ختم ہو جانے کے باوجود ان کے اقتدار کا تسلسل جاری ہے اور یہ اسرائیل +امریکہ کی توقع اور امید کے بالکل خلاف ہے۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے، ایران کا ایک طبقہ یہ چاہتا ہے کہ جنگ جاری رکھی جائے، مذاکرات کے بجائے میدان جنگ میں دشمنوں کو سبق سکھایا جائے۔28 فروری(جب جنگ شروع ہوئی ) کے بعد تقریبا روزانہ ایسے ایرانیوں کا ملک کے طول و عرض میں ہر رات کسی مقام پر اجتماع ہوتا ہے، وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے لگاتے ہیں

"کوئی مراعات خصوصی نہیں۔۔۔۔

۔کوئی مصالحت نہیں۔۔۔۔۔

امریکہ سے جنگ کرو "

دراصل امریکہ کے سابقہ روئیے کی وجہ سے ایرانی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی امریکہ ایران کی خودمختاری کو کوئی اہمیت دیتا ہے، لہذا ایران کو چاہیے کہ خطے میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھے ،اور آبنائے ہرمز کو بھی بند رکھنا چاہیے ۔یہاں تک کہ خطے میں امریکی موجودگی کا خاتمہ نہ ہو جائے۔

یہ رویہ ایرانیوں کو نفسیاتی طور پر تو مطمئین رکھ سکتا ہے لیکن اس کا انجام بے گناہ شہریوں کی ہلاکت اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں نکلے گا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل بڑی بے تابی سے جنگ کے خاتمے کے منتظر ہیں لہذا جلد از جلد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ ایران کی اہم صنعتی اور توانائی کی تنصیبات پر ہلاکت آفرین حملے کریں گے بلکہ شہریوں کو بھی نشانہ بنائیں گے، یوں جنگ علاقائی جنگ سے عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے۔

تہران کو چاہیے کہ اپنا پلہ بھاری رکھتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے بجائے فتح کا اعلان کرے اورایک ایسی ڈیل کی طرف جائے جو نہ صرف موجودہ جنگ کا خاتمہ کرے بلکہ اس بات کی بھی گارنٹی دے کہ ائندہ بھی ایران کے خلاف کوئی جارحیت نہیں ہو گی۔اس کے لیے ایران کم از کم یہ دو اقدامات کرے:

1۔۔۔۔۔یورینیم افزودگی کی ایک حد پر اتفاق کرے،

2۔۔۔آبنائے ہرمز کھول دے

اس کے عوض کم از کم تین مطالبات رکھے

1۔۔۔ایران پر لگی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے

2۔۔۔امریکہ کے ساتھ ایک عدم جارحیت کا معاہدہ ہو،دونوں ملک یہ وعدہ کریں کہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔

3۔۔۔امریکہ کے ساتھ اقتصادی معاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت ٹرمپ کی پوزیشن کمزور ہے، وہ متضاد بیانات دیتے ہیں ایرانی عوام کی یہ کہ کر بے عزتی کرتے ہیں کہ "ہم انہیں پتھر کے دور میں پھینک دیں گے، جہاں سے ان کا تعلق ہے "

کبھی کہتے ہیں کہ ہم اپنے اہداف حاصل کر چکے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ ہم فتح کے قریب ہیں، چند ہفتوں کی بات ہے۔۔

حقیقت یہ ہے کہ وہائٹ ہاوس انرجی کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہے لہذا ٹرمپ کو اس ڈیل تک لایا جا سکتا ہے۔ٹرمپ اپنی "مس کیلکولیشن "کو "اپرچیونٹی ” میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

کوئی شک نہیں کہ ایرانی امریکہ کے خلاف غصے سے بھرے ہوئے ہیں، اور ایسا صرف موجودہ حالات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس صدی کے آغاز سے ہی امریکہ نے جس طرح ایران سے مسلسل بے وفائی کی اس نے اس غصے کو بڑھاوا دیا ہے۔

ایران نے 9/11 کے بعد افغانستان میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا، اس کے جواب میں صدر جارج ڈبلیو بش نے ایران ہی کو "محور شیطانیت ” قرار دے کر تہران کو دھمکی دی۔

صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ 2015 کی نیوکلیئر ڈیل ہوئی، لیکن اس ڈیل میں عالمی معاشی تعلقات کے حوالے سے ایران سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے

ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ڈیل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تہران پر شدید دباو اور 90 ملین ایرانیوں کی تباہی کے لیے لگائی جانے والی پابندیوں کو برقرار رکھا، یہی پالیسیاں جو بائیڈن کے دور میں جاری رہیں، جب ٹرمپ دوسری مدت کیلئے اقتدار میں آئے تو وہائٹ ہاوس کا رویہ اور زیادہ گمراہ کن ہو گیا، ٹرمپ نے کہاکہ وہ ایران سے ایک اور ڈیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، ایران نے جب اپنے ماہرین کا وفد بات چیت کے لیے بھیجا تو ٹرمپ نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز کو بات چیت کے لیے بھیج دیا ان میں سے ایک ان کے داماد جیراڈ کشنر تھے اور دوسرے ان کے گالف کے کھیل کے ساتھی اسٹیو وٹکاف۔۔۔۔اس سے قبل کہ بات چیت کسی نتیجے پر پہنچتی امریکہ نے ایرانی عوام پر آگ و آہن کی بارش برسا دی۔

ان نظائر کے سبب ایرانی عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں، مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔

باوجود اس کے کہ یہ سب باتیں قابل فہم ہیں پھر بھی ایران کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ جنگ ختم کرنے میں تاخیر نہ کرے۔،طویل جنگ کے نتیجے میں ایک طرف ایرانیوں کی قیمتی جانوں کا زیاں ہو گا بلکہ وسائل کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ردعمل کے طور پر ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے لیکن اس سے امریکہ کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ امریکہ خطے کے ان عرب اتحادیوں کو اسرائیل کی دفاعی شیلڈ کے طور پر استعمال کرتا ہے، اس کے نزدیک ان ممالک کی اس سے زیادہ اہمیت نہیں۔

جنگ بڑھنے کی صورت میں امریکہ زمینی کارروائی بھی کر سکتا ہے گو کہ یہ خود امریکہ کے لئے ایک خوفناک تجربہ ہو گا لیکن اس سے ایران کو بھی کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔

اگر فریقین ڈیل/ مذاکرات پر راضی ہو جاتے ہیں تو دو میں سے ایک بات ہو سکتی ہے۔پہلی بات یہ ہو سکتی ہے کہ ایک فارمل یا انفارمل سیز فائر ہو جائے اور باقی اختلافات کو نہ چھیڑا جائے۔مگر ایسا ہونے کی صورت میں دونوں طرف سے خطرہ موجود رہے گا

دوسرا راستہ ایک ہمہ جہتی امن معاہدہ/ڈیل کا ہے ۔ جس میں 47 سالہ تنازعات کو پیچھے چھوڑ کر نئے سرے سے پائیدار امن کیلئے ایک ڈیل کی جائے۔موجودہ خوفناک حالات میں اس قسم کی ڈیل کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔

یہ تو ظاہر ہو چکا ہے کہ امریکہ اس قابل نہیں کہ ایران کے نیوکلیئر یا میزائل پروگرام کو تباہ کر سکے خواہ اس میں اسرائیل اور اس کے خلیجی اتحادی اس کی پوری پوری مدد ہی کیوں نہ کریں ۔ایران کے یہ پروگرام اس قدر بکھرے ہوئے اور غیر مرکزی ہیں کہ سب کو تباہ کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

خطے کے خلیجی ممالک پر بھی اس جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنا تحفظ امریکہ سے "خرید” نہیں سکتے۔برسوں سے عرب ممالک یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنی زمینوں پر امریکی اڈے قائم کر کے اور امریکہ کو اس کی ادائیگی کرنے سے خود کو محفوظ کر سکیں گے۔حالانکہ اس دوران ایران نے علاقائی سلامتی اور تحفظ کے لیے کئی جامع سفارشات پیش کیں لیکن عرب اور خلیجی ممالک نے ان کو نظر انداز کیا یا مسترد کر دیا۔ایسی ایک تجویز ایران کی طرف سے 1985 میں پیش کی گئی جو UN کی قرارداد نمبر 598 میں درج ہے کہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستیں، علاقائی سلامتی کے لئے انتظامات قائم کریں۔پھر 2015 میں بھی ایران نے عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز رکھی لیکن عرب ریاستوں نے اسے درخور اعتنا نہ سمجھا، ان کا خیال تھا کہ کسی علاقائی تنازعہ کی صورت میں امریکہ ان کی مدد کرے گا۔لیکن ہوا اس کے برعکس ان ریاستوں کے منع کرنے کے باوجود امریکہ نے ایران پر بمباری کا فیصلہ کر لیا، ان اڈوں کو استعمال کیا، جس کے نتیجے میں یہ عرب ممالک جنگ کا تھیٹر بن گئے جس سے وہ بچنا چاہتے تھے۔

ایران نے اس جنگ میں یہ بھی ثابت کر دیا کہ اسرائیل کا غیر قانونی نیوکلیئر پروگرام اس کے عوام کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے نہیں بچا سکے گا۔

ان سب کا مطلب یہ ہے کہ مغربی ایشیا کے تمام فریقوں کو پائیدار امن عمل شروع کرنے کے لیے، ایک دوسرے کے خلاف جنگ بند کرنے پر متفق ہونا پڑے گا۔ایران کو عمان کے تعاون سے آبنائے ہرمز کو ایک محفوظ گزرگاہ بنانا ہو گا۔ امریکی حکام کو آبنائے ہرمز کو ایران کے لئے کھولنے کی بھی اجازت دینی ہو گی۔یہ بڑی ستم ظریفی کی بات ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کی سرحدیں ایرانی سرزمین سے ملتی ہیں لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے یہ آبنائے ہرمز کئی برسوں سے ایران کے لیے موثر طریقے سے بند ہے۔اس کی وجہ سے ایران کے اندر زبردست بد عنوانی ہوئی اور کچھ نا شکرے پڑوسیوں کی طرف سے زبردست منافع خوری ہوئی۔۔اس طرح حتمی معاہدے سے پہلے امریکہ کو ایرانی تیل اور دیگر مصنوعات کی بلا روک ٹوک فروخت کی اجازت دینی چاہیے۔

جیسے ہی امریکہ اور ایران یہ اقدامات کریں گے وہ ایک مستقل امن معاہدے کی طرف بڑھ سکیں گے۔چین، روس،امریکہ کے ساتھ مل کر ایران اور دلچسپی رکھنے والے خلیجی ممالک ایندھن کی افزودگی کا ایک کنسورشیم قائم کر سکتے ہیں ۔

ایک اور علاقائی سیٹ اپ بھی بنایا جا سکتا ہے جس میں ایران کے علاوہ بحرین،کویت،قطر،عمان،عراق،سعودی عرب، یمن اور امارات کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر پاکستان، مصر اور ترکیہ کو بھی شامل کر کے باہمی تعاون اور عدم جارحیت کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن جنگ کے ذریعے یہ سب کچھ حاصل نہیں کر سکے گا۔اس نے دو جنگوں میں اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیا۔

ایران اور امریکہ کو مستقل عدم جارحیت کے معاہدے کا اعلان کرنا چاہیے۔یہ اتنا آسان تو نہیں ہو گا، اس سے ایرانی ناراض ہو سکتے ہیں، امریکہ کی اسلامی جمہوریہ سے ناپسندیدگی بھی برقرار رہ سکتی ہے لیکن اس بھیانک جنگ نے ایک پائیدار تصفیہ کا دروازہ بہرحال کھول دیا ہے اور تاریخ انہیں لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو قیام امن کیلئے کام کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں