میں محض ایک عدد نہیں، غزہ میں نسل کشی کے شہدا کے ناموں کو محفوظ کرنے کا منصوبہ

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

شہدا کی یادوں کو ان کے ناموں کے ساتھ زندہ جاوید بنانے کی ایک کوشش کے طور پر مصری پروگرامر بدر الخمیسی نے میں محض ایک عدد نہیں کے عنوان سے ایک ’انٹرایکٹو‘ منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے شہدا کی دستاویز سازی کرنا اور ہر شہید کے لیے ایک مخصوص صفحہ تخلیق کرنا ہے۔

یہ منصوبہ جو ابھی اپ ڈیٹ ہونے کے مراحل میں ہے، باضابطہ طور پر تقریباً 60 ہزار شہدا کا ڈیٹا پیش کر رہا ہے۔ اس اسکرین پر موجود روشنی کا ہر نقطہ ایک نام اور اس کی ذاتی تفصیلات بشمول عمر اور تاریخِ پیدائش کو ظاہر کرتا ہے، جو انسانی جانوں کے ضیاع کی سنگینی کی ایک بصری عکاسی ہے۔

منصوبے کے منتظمین کے مطابق یہ کام سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر گذشتہ جولائی کے آخر تک کے شہدا کے ڈیٹا پر مبنی ہے، جبکہ تاحال ہزاروں شہدا کی شناخت ہونا باقی ہے اور اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

منصوبے کی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس تعاملی ڈیٹا بیس کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے اور سرکاری معلومات کی دستیابی کے ساتھ ساتھ نئے ناموں کے اضافے کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ ہر مظلوم کی انفرادی یادداشت کو محفوظ کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ جارحیت کے آغاز سے اب تک جنگ کے متاثرین کی کل تعداد 72,292 شہدا اور 172,073 زخمیوں تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت نے اشارہ کیا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں چار شہدا اور 12 زخمیوں کو لایا گیا۔

وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ گذشتہ اکتوبر سے نافذ العمل سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 716 فلسطینی شہید اور تقریباً 1968 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اسی مدت کے دوران 756 جسدِ خاکی بھی نکالے گئے ہیں۔

معاہدے کی موجودگی کے باوجود قابض اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بمباری اور فائرنگ کی صورت میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہو رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار اکتوبر سنہ 2023ء میں شروع ہونے والی اس تباہ کن جنگ کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس نے غزہ کی پٹی کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے تعمیرِ نو کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔