
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں مسلسل 178 ویں روز بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر مسلط کردہ محاصرہ، گزرگاہوں کی بندش اور سخت فوجی اقدامات بدستور برقرار ہیں۔
اتوار کی علی الصبح قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے مشرقی حصے میں سکیورٹی اہلکاروں کے ایک گروپ کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، یہ حملہ اس سے قبل ایک فلسطینی کی شہادت اور تین کے زخمی ہونے کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا۔
شہری دفاع کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ حی التفاح کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں پانچ شہدا اور متعدد زخمیوں کو المعمدانی ہسپتال اور الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے اسی محلے میں ساحہ الشوا کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کے ایک گروپ پر بمباری کی۔
اس سے قبل غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں ایک ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور 3 زخمی ہو گئے، جبکہ کئی علاقوں میں فائرنگ، توپ خانے اور بحری بمباری کے واقعات بھی دیکھے گئے۔
قابض اسرائیل کے توپ خانے نے جبالیا کیمپ اور خان یونس کے مشرقی علاقوں سمیت غزہ کی پٹی کے مشرقی حصوں پر گولہ باری کی، جس کے ساتھ ساتھ فوجی گاڑیوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کی گئی۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے جنوب میں رفح کے ساحل کی جانب فائرنگ کی، جبکہ فوجی گاڑیوں نے بریج کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
یہ پیش رفت قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے گذشتہ 11 اکتوبر سنہ 2024ء سے نافذ سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سائے میں سامنے آئی ہے، جن کے نتیجے میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک 713 فلسطینی شہید اور 1943 زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے امریکہ کی پشت پناہی میں غزہ کی پٹی پر مسلط قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ نے اب تک 72 ہزار سے زائد شہدا اور تقریباً 1 لاکھ 72 ہزار زخمیوں کے ساتھ ساتھ غزہ کے 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

