ایران اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کی لاگت 15 ارب ڈالر تک جا پہنچی

0
6

مرکزاطلاعات فلسطین

ایک اسرائیلی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور لبنان کے خلاف جاری قابض اسرائیل کی جارحیت کی لاگت شروع ہونے سے اب تک تقریباً 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ عسکری آپریشنز کے تسلسل اور بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کے پیشِ نظر اس میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

معاشی اخبار ککالیسٹ نے اتوار کے روز بتایا کہ اس جارحیت کی کل لاگت تقریباً 47 ارب شیکل تک پہنچ چکی ہے، اخبار کے مطابق قابض فوج کی وزارت نے عسکری اخراجات پورے کرنے کے لیے 39 ارب شیکل کے اضافی فنڈز کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی یا لڑائی کے نئے مراحل شروع ہوئے تو سنہ 2026ء کے دوران اس رقم میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اخبار نے واضح کیا کہ مسلسل محاذ آرائی کے باعث طویل مدت کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی کے بجائے اضافے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے، کیونکہ ایران اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مزید ممکنہ تصادم کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سویلین پہلو کے حوالے سے بتایا گیا کہ میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کی تقریباً 26 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کی مالیت 1 سے 1.5 ارب شیکل کے درمیان ہے، تاہم اخبار نے نشاندہی کی کہ سب سے بڑا بوجھ کمپنیوں اور ورکرز کے معاوضے کا منصوبہ ہے جس کا تخمینہ 6.5 سے 7 ارب شیکل لگایا گیا ہے، اس کے علاوہ بلا معاوضہ چھٹیوں پر بھیجے گئے ملازمین کے اخراجات کی مد میں تقریباً نصف ارب شیکل کے اخراجات الگ ہیں۔

اخبار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ قابض حکومت نقصانات کو کم کرنے اور معیشت پر جنگ کے بوجھ کو گھٹانے کی کوشش میں معاشی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔

یہ اندازے گذشتہ فروری کے اواخر سے جاری اس جنگ کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں امریکہ بھی ایران کے خلاف قابض اسرائیل کے ساتھ شریک ہے، جبکہ تہران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر ہلاکتیں، زخمی اور مادی نقصانات ہوئے ہیں۔

علاقائی سطح پر تصادم کا دائرہ مارچ کے آغاز سے لبنان تک پھیل چکا ہے، جہاں نومبر سنہ 2024ء سے سیز فائر کے معاہدے کی موجودگی کے باوجود قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوطرفہ حملوں میں شدت آئی ہے۔