مغربی کنارے کے نجی اور عوامی ہسپتالوں کی خدمات مالی بحران کے باعث بند ہونے کا خدشہ

0
7

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں نجی اور عوامی ہسپتالوں کی یونین نے خبردار کیا ہے کہ صحت کا شعبہ ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں طبی خدمات کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے، اس سنگین مالی بحران کی بنیادی وجہ گذشتہ 8 سال سے فلسطینی حکومت کے ذمہ ان ہسپتالوں کے واجب الادا بقایاجات ہیں۔

نجی اور عوامی ہسپتالوں کی یونین کے سربراہ یوسف التکروری نے صحافتی بیانات میں بتایا کہ ہسپتالوں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی مالیت تقریباً 2.6 ارب شیکل (812.5 ملین ڈالر) تک پہنچ چکی ہے، جس کے منفی اثرات ادویات کی دستیابی پر پڑے ہیں اور گذشتہ کئی ماہ سے عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

التکروری نے ”العربی الجدید“ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بعض ہسپتالوں نے باقاعدہ طور پر کفایت شعاری کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جہاں کئی طبی اداروں نے وزارت صحت کی طرف سے ریفر کیے گئے مریضوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں، جن میں بیت لحم ہسپتال برائے بحالیِ معذوران اور نابلس میں النجاح نیشنل یونیورسٹی ہسپتال شامل ہیں، جبکہ الخلیل میں المیزان سپیشلٹی ہسپتال نے مریضوں کو داخل کرنے کی شرح آدھی کر دی ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ نجی اور عوامی ہسپتال 70 فیصد تک وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ طبی حوالوں (میڈیکل ریفرلز) پر انحصار کرتے ہیں، یہ سلسلہ سنہ 2018ء میں صدر محمود عباس کے اس فیصلے کے تحت شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد علاج کو مقامی بنانا اور مریضوں کو بیرون ملک یا سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کے ہسپتالوں میں بھیجنے سے روکنا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پالیسی کی وجہ سے ہسپتالوں نے اپنے ڈھانچے کو جدید بنایا اور کینسر کے علاج اور دماغی و مداخلتی کیتھٹرائزیشن جیسے پیچیدہ شعبوں میں ماہر طبی عملہ بھرتی کیا، جس سے بقایاجات کی عدم ادائیگی کی صورت میں مالی بوجھ مزید بڑھ گیا۔

التکروری نے بیان کیا کہ یہ بحران صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں تک پھیل چکا ہے، جہاں حکومت کے ذمہ ادویات ساز کمپنیوں کے تقریباً 1.6 ارب شیکل واجب الادا ہیں، جس سے شعبہ صحت پر کل قرضوں کا حجم تقریباً 4.2 ارب شیکل ہو گیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس صورتحال کی وجہ سے ادویات کی دستیابی میں شدید کمی آئی ہے اور بعض ادویات کا ذخیرہ ”ریڈ لائن“ تک پہنچ چکا ہے، کچھ اقسام اب دستیاب ہی نہیں جبکہ دیگر کا اسٹاک ایک ماہ سے زیادہ کا نہیں ہے، انہوں نے بنیادی ادویات کی کمی کے حوالے سے بھی سخت وارننگ دی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال مشکل حالات کے باوجود کم سے کم سطح پر خدمات جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عملہ تنخواہوں میں تاخیر کے باعث کٹھن زندگی گزار رہا ہے، تاہم طبی ادارے اس مرحلے پر ہڑتال کی طرف جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

اسی تناظر میں التکروری نے توجہ دلائی کہ یہ بحران اس وقت مزید سنگین ہوا جب قابض اسرائیل نے ٹیکسوں کی مد میں جمع شدہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی رقم دبا لی، یہ وہ محصولات ہیں جو قابض اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جمع کرتا ہے اور گذشتہ 11 ماہ سے باقاعدگی سے منتقل نہیں کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں وزارت صحت، وزارت خزانہ اور ادویات فراہم کرنے والی یونین کا ایک اجلاس ہوا جس میں اب تک کوئی عملی حل سامنے نہیں آ سکا، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہسپتال دستیاب محدود وسائل کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ طبی خدمات کے مکمل خاتمے سے بچا جا سکے۔