غزہ کی تین سگی بہنیں نادر بیماری کا شکار، اسرائیلی محاصرے کے باعث علاج سے محروم

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

فلسطینی بچی ماسہ الخطیب محصور غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے بچوں کے وارڈ میں ایک بستر پر پڑی ہے، جس کا جسم نڈھال اور رنگت پیلی پڑ چکی ہے، جبکہ اس کے ننھے سے ہاتھ سے جڑی طبی محلول کی نالیاں اسے زندہ رکھنے کی تگ و دو میں لگی ہیں۔

اس کے پہلو میں اس کی دو بہنیں بیٹھی ہیں جو اسی بیماری میں اس کی شریک ہیں، یہ منظر ایک پورے خاندان کے اس المیے کی عکاسی کرتا ہے جو ایک ایسی نادر موروثی بیماری کا سامنا کر رہا ہے جس نے ان تینوں بچیوں کے اجسام کو مضحمل کر دیا ہے۔

بچیوں کے والد احمد الخطیب بتاتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں پیدائش ہی سے مدافعتی نظام کی ایک انوکھی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے انہیں بار بار انفیکشن ہوتا ہے اور ان کی نشوونما رک گئی ہے، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان کے اجسام غزہ کی پٹی کے اندر دستیاب روایتی علاج پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ہم نے سنہ 2024ء سے عالمی ادارہ صحت کے ذریعے بیرون ملک علاج کے لیے طبی تحویل (میڈیکل ٹرانسفر) حاصل کر لی تھی، لیکن سرحدیں اور راستے بند ہونے کی وجہ سے ہم سفر نہ کر سکے، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ماسہ کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے اور اسے فوری طور پر بون میرو کی پیوند کاری کی ضرورت ہے جو غزہ میں دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کی زندگی کو براہ راست خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب اس کے کیس کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ایاد ابو معیلق وضاحت کرتے ہیں کہ بچی ایک نادر موروثی مدافعتی خرابی کا شکار ہے جس کی وجہ سے وزن میں شدید کمی اور بار بار بیکٹیریل و وائرل انفیکشن ہو رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ طریقہ علاج مخصوص مقدار میں مدافعتی سپلیمنٹس دینے پر منحصر ہے، تاہم یہ علاج محض عارضی ہے، جبکہ اس کا مستقل حل غزہ کی پٹی سے باہر ماہر مراکز میں بون میرو کی پیوند کاری ہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں صحت کے نظام کی تباہ حالی کے پیش نظر، فوری جراحی مداخلت کے بغیر موجودہ صورتحال کا برقرار رہنا اس کی زندگی کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔

ادھر بچیوں کی والدہ مناسب خوراک اور ضروری ادویات کی فراہمی میں عاجزی کے باعث خاندان پر بیتنے والے سنگین انسانی حالات کے بارے میں بتاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو خاص غذائی نظام اور سپلیمنٹس کی ضرورت ہے، لیکن ہمیں اکثر اوقات بنیادی کھانا تک نہیں ملتا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی روزمرہ کی زندگی بیماری اور وسائل کی کمی کے درمیان ایک مسلسل جدوجہد بن چکی ہے۔

وہ عالمی برادری اور عالمی ادارہ صحت سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو علاج کے لیے سفر کی اجازت دلوانے میں فوری مداخلت کی جائے۔

غزہ کی پٹی میں صحت کا نظام محاصرے اور ادویات و طبی سامان کی قلت کے نتیجے میں بے پناہ دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے پیچیدہ کیسز سے نمٹنے کی اس کی صلاحیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

مقامی تخمینے بتاتے ہیں کہ سفر پر قابض اسرائیل کی سخت پابندیوں کے باعث تقریباً 22 ہزار مریضوں اور زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ مارچ کے مہینے میں رفح کراسنگ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کے باوجود، مریضوں کی نقل و حرکت اب بھی محدود ہے اور وہ طویل تحقیقات اور سخت پابندیوں پر مشتمل پیچیدہ طریقہ کار کے تابع ہے۔

امید تھی کہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ ہونے والے سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت کراسنگ کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

جنگ چھڑنے سے پہلے، سینکڑوں فلسطینی روزانہ رفح کراسنگ کے ذریعے مصر جاتے تھے اور اتنے ہی فلسطینی اور مصری حکام کی مشترکہ نگرانی میں، قابض اسرائیل کی مداخلت کے بغیر معمول کے مطابق واپس آتے تھے۔ لیکن نسل کشی کی وہ جنگ جو قابض اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ سات اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی اور دو سال تک جاری رہی، اس نے 72 ہزار سے زائد شہداء اور 172 ہزار سے زائد زخمیوں کے ساتھ ساتھ غزہ کی پٹی میں تقریباً 90 فیصد شہری ڈھانچے کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔