
مرکزاطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت’حماس‘ کے چیئرمین محمد درویش نے متعدد عرب اور اسلامی ممالک کو ارسال کردہ ایک قانونی یادداشت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون کی منظوری قابض اسرائیل کے قانونی ڈھانچے میں ایک انتہائی خطرناک موڑ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قانون زندگی کے حق اور انسانی وقار کی سنگین پامالیوں کو ظاہری قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔
محمد درویش نے یادداشت میں واضح کیا کہ حماس کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق یہ قانون محض ایک قانونی پیش رفت نہیں بلکہ ایک ایسا غیر معمولی اشتعال انگیز قدم ہے جو قتل و غارت گری کو میدانی عمل سے نکال کر باقاعدہ قانونی قاعدے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے حقیقت پسندانہ منظرنامے میں ہو رہا ہے جہاں پہلے ہی میدانی سطح پر ماورائے عدالت قتل اور قابض صہیونی عقوبت خانوں کے اندر تشدد کے باعث اموات کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جو فلسطینی اسیران کو نشانہ بنانے کے ایک منظم اور سفاکانہ طریقہ کار کی عکاسی کرتے ہیں۔
محمد درویش نے اشارہ کیا کہ یہ قانون سازی جیلوں کے انتظام میں اپنائی جانے والی ان سخت گیر پالیسیوں کا تسلسل ہے جو بالخصوص وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے سامنے آئی ہیں۔ ان کے دور میں اسیران کے خلاف جبر و ستم کے اقدامات میں اس پالیسی کے تحت شدت لائی گئی ہے جو اجتماعی محکومی پر مبنی ہے۔
انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک سمیت انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قانون کے اطلاق کو روکنے کے لیے فوری متحرک ہوں اور قابض اسرائیل پر ایسی عالمی پابندیاں عائد کروائیں جن کے ذریعے بین الاقوامی پارلیمانی اداروں میں غاصب ریاست کی شرکت کو معطل کیا جا سکے۔
حماس کے رہنما نے بین الاقوامی سطح پر احتساب کے عمل کو فعال کرنے کا بھی مطالبہ کیا بالخصوص عالمی فوجداری عدالت کی حمایت کے ذریعے اس قانون کی منظوری اور اس پر عمل درآمد کی فوجداری ذمہ داری کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا جائے اور فلسطینی اسیران کو فوری طور پر بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے۔
حماس کے چیئرمین نے اس ضرورت پر زور دیا کہ اس قانون کو ختم کرنے کے لیے شدید سفارتی اور قانونی دباؤ ڈالا جائے تاکہ سزائے موت کو نسلی امتیاز کے آلے کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے ان ممارسات کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دینے کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داران کو سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے۔

