
مرکزاطلاعات فلسطین
ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا جا رہا ہے، اس معاہدے کی حدود لبنانی محاذ پر بہت جلد بے نقاب ہو گئی ہیں۔ قابض افواج نے اپنی عسکری کارروائیوں کی رفتار میں مسلسل اضافہ کر رکھا ہے اور اس معاہدے کے کسی بھی علاقائی اثر کو عملی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ صورتحال بنجمن نیتن یاھو کی اس کوشش کی عکاسی کرتی ہے جس میں وہ لبنانی محاذ کو جنگ بندی کے وسیع تر عمل سے الگ رکھ کر اسے مستقل میدانِ جنگ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں کی جانب سے لبنان پر کیے جانے والے وحشیانہ فضائی حملوں کے سلسلے میں سینکڑوں شہری شہید اور زخمی ہو گئے ہیں۔
قابض اسرائیل کی فضائیہ نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (ضاحیہ) اور صور شہر کے علاوہ جنوب اور مشرقی البقاع کے کئی قصبوں پر شدید بمباری کی، جو کہ وسیع علاقوں کو خالی کرنے کے پیشگی انتباہات کے بعد کی گئی۔
قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنگ کے آغاز سے اب تک لبنان میں اپنا "سب سے بڑا حملہ” کیا ہے، جس میں بیروت، بقاع اور جنوب کے علاقوں میں حزب اللہ سے متعلق تقریباً 100 مقامات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
قابض فوج نے مدعیانہ انداز میں کہا کہ ان غارت گریوں میں انٹیلی جنس مراکز اور آپریشنز کی رہنمائی کرنے والے مرکزی دفاتر کو نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ بحری و فضائی دفاعی نظام اور "رضوان یونٹ” اور ایئر یونٹ (127) سے وابستہ اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کے اہم ترین ایلیٹ یونٹ سمجھے جاتے ہیں۔
بدھ کی سہ پہر جنوبی لبنان کے ضلع حاصبیا کے علاقے زمریا میں قابض اسرائیل کی جانب سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد جامِ شہادت نوش کر گئے، جو واشنطن اور تہران کے درمیان فجر کے وقت ہونے والے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہے۔
اس کے متوازی طور پر قابض فوج نے بدھ کی صبح بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کے سات محلوں کو خالی کرنے کا حکم دیا، جن میں حارہ حریک، غبیری، لیلکی، الحدث، برج البراجنہ، تحویطہ الغدیر اور شیاح شامل ہیں، تاکہ وہاں بمباری کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی دریائے زہرانی کے جنوب میں واقع علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر شمال کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض فوج نے جنوبی لبنان کے 66 علاقوں پر درجنوں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں 8 افراد شہید اور کم از کم 22 دیگر زخمی ہوئے۔
سیاسی محاذ پر قابض حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس موقف پر اصرار کیا کہ دو ہفتوں کے لیے ہونے والا سیز فائر کا معاہدہ "لبنان پر لاگو نہیں ہوتا”۔ ان کا یہ موقف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کے برعکس ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ جنگ بندی لبنان سمیت "ہر جگہ” کے لیے ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے قریبی تین لبنانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے باوجود حزب اللہ نے آج صبح کے ابتدائی اوقات سے ہی سیز فائر کی پابندی کی ہے، اور وہ معاہدے اور میدانی صورتحال پر اپنا باقاعدہ موقف جاری کرے گی۔
حزب اللہ نے بے گھر ہونے والے لبنانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنوبی لبنان، بقاع اور ضاحیہ کے نشانہ بننے والے دیہاتوں اور قصبوں میں اس وقت تک واپس نہ جائیں جب تک لبنان میں سیز فائر کے حوالے سے کوئی حتمی اور سرکاری اعلان سامنے نہ آ جائے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لبنان "ایک بڑی تاریخی فتح کی دہلیز پر کھڑا ہے” اور قابض اسرائیل اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے اور میدانی کامیابی کا مصنوعی تاثر دینے کے لیے "دھوکہ دہی کی کوششوں” کا سہارا لے سکتا ہے۔
اسی دوران لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری نے بیروت میں پاکستانی سفیر سلمان اطہر سے رابطہ کیا، جس میں انہوں نے علاقائی سطح پر سیز فائر کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں اور بالخصوص جنوبی لبنان میں جاری جارحیت کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جائے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کی صبح دو ہفتوں کے لیے سیز فائر کا معاہدہ طے پایا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کو تباہ کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل ہوا، جس کے تحت جمعہ کے روز اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز ہونا ہے۔
ایران پر قابض اسرائیل اور امریکہ کے پانچ ہفتوں سے زائد عرصے پر محیط حملوں کے بعد تہران نے بدھ کی فجر کو اعلان کیا کہ واشنطن کے ساتھ مذاکرات جمعہ کو پاکستان میں شروع ہوں گے، جو سنہ 2026ء کی 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

