سیز فائر کے باوجود غزہ میں زندگی کا گلا گھونٹا جا رہا ہے: ایم ایس ایف

0
2

مرکزاطلاعات فلسطین

طبی امداد کی عالمی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز” (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر سے سنگین انسانی بحران کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ تنظیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کے آغاز کو کئی ماہ گزر جانے کے باوجود شہری تاحال انتہائی کٹھن حالات اور بنیادی ضروریات کی شدید ترین قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

تنظیم نے جمعہ کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ لڑائی روکنے کا معاہدہ، اگرچہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، مگر یہ وسیع پیمانے پر جانی نقصان ہونے کے بعد بہت دیر سے سامنے آیا۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی، طبی اور نفسیاتی ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں جن کے لیے ہنگامی اور جامع ردعمل کی ضرورت ہے۔

ایم ایس ایف نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی حقائق آبادی کی مسلسل تکالیف کو ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ طبی اور غذائی سامان کی قلت ہے اور امداد کی منتقلی پر پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں اور لاکھوں لوگ ان حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جنہیں تنظیم نے "انتہائی مایوس کن” قرار دیا ہے۔

تنظیم نے سخت الفاظ میں کہا کہ سیز فائر محض پہلا قدم ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور خوراک، پانی اور طبی دیکھ بھال سمیت انسانی امداد کی وسیع اور پائیدار ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی خدمات کی فراہمی اور نظامِ صحت کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جائے۔

تنظیم نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ ابتر طبی حالات کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، بشمول ان مریضوں کے طبی انخلا کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے جن کا علاج نظامِ صحت کی تباہی کے باعث غزہ کے اندر ممکن نہیں ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میدانی رپورٹس بتاتی ہیں کہ انسانی حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے، جہاں بے گھر ہونے والے فلسطینی خوراک، پانی اور پناہ گاہ کی شدید قلت کے باعث بدستور انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔