قابض اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے 6 ماہ، سیز فائر غزہ کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام: انسانی حقوق مرکز

0
3

مرکزاطلاعات فلسطین

غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل گذشتہ چھ ماہ سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کو منظم طریقے سے سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے، جس کے باعث یہ معاہدہ اپنی عملی اہمیت کھو چکا ہے۔ مرکز کے مطابق یہ معاہدہ اب محض ایک شکلی فریم ورک بن کر رہ گیا ہے جو نہ تو عام شہریوں کو تحفظ فراہم کر پا رہا ہے اور نہ ہی زندگی کی کم از کم ضروریات کی فراہمی کا ضامن ہے۔

مرکز نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا کہ اس کی فیلڈ ٹیموں نے قابض اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی منظم خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، جن میں براہ راست فوجی حملے، فضائی غارت گری اور وہ پابندیاں شامل ہیں جو غزہ میں انسانی المیے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

بیان میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معاہدے کے آغاز سے اب تک قابض دشمن کے ہاتھوں 743 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 205 بچے، 86 خواتین اور 21 عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2,036 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ فائرنگ، بمباری، دراندازی اور گھروں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کی یومیہ شرح 13.1 خلاف ورزیاں رہی۔

مرکز نے خبردار کیا کہ قابض فوج طے شدہ لکیروں سے پیچھے ہٹنے کے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی، بلکہ معاہدے کی حدود سے باہر تقریباً 34 مربع کلومیٹر کے علاقے بشمول لائن یلو پر اپنا عسکری تسلط برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس صورتحال نے شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ کسانوں کی اپنی زرعی اراضی اور روزگار کے ذرائع تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے مرکز نے اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ 6 ماہ کے دوران زرد لکیر کے دائرہ کار میں کم از کم 10 بار توسیع کی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اب غزہ کی پٹی کے 54 فیصد سے زائد رقبے پر قابض ہے۔ ان علاقوں میں تباہی و بربادی اور مکانات کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے، وہاں فوجی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں اور اپنے حمایت یافتہ مقامی مسلح جتھوں کو وہاں تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ان مقامات کو فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر حملوں کے لیے استعمال کر سکیں۔

انسانی پہلو کے حوالے سے مرکز نے بتایا کہ قابض دشمن انسانی پروٹوکول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، خاص طور پر امدادی سامان کی ترسیل کے معاملے میں۔ معاہدے کے تحت روزانہ 600 ٹرک داخل ہونا تھے، مگر حقیقت میں اس تعداد کے صرف 39 فیصد ٹرک ہی داخل ہو پا رہے ہیں۔ ایندھن کی فراہمی میں 14.9 فیصد تک کی خطرناک حد تک کمی کی گئی ہے، جس سے بجلی، پانی اور نکاسیِ آب جیسی بنیادی سہولیات مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں اور انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔

اسی تناظر میں مرکز نے ’پیس کونسل‘ کے ہائی کوآرڈینیٹر نکولے ملادی نوف کے گمراہ کن بیانات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا، جنہوں نے گذشتہ روز جمعرات کو 602 ٹرکوں کی داخلے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اصل تعداد 207 ٹرکوں سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ تضاد بین الاقوامی نگرانی کے میکانزم پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور ان ڈھانچوں کی اہلیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے جو اسرائیلی مظالم کو روکنے اور دو سالہ نسل کشی کے بعد پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

مرکز نے یہ بھی بتایا کہ قابض دشمن رفح بارڈر کراسنگ پر کام میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور مسافروں، خاص طور پر بیماروں اور زخمیوں کی نقل و حرکت پر من مانی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مسافروں کی سہولت کے حوالے سے صرف 25 فیصد عمل درآمد کیا گیا ہے، جبکہ عملی طور پر سرحد بند ہے اور زخمیوں کا علاج کے لیے انخلا روکا جا رہا ہے، جو زندگی اور صحت کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق طبی سامان کی قلت، ضروری آلات کی درآمد پر پابندی اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث غزہ کا نظامِ صحت تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب قابض اسرائیل گھروں اور تنصیبات کو مسمار کرنے، تعمیر نو کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے اور تعمیراتی مواد کی فراہمی روکنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مرکز نے متوجہ کیا کہ قابض دشمن مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے کام میں رکاوٹیں کھڑا کر رہا ہے اور غزہ کے امور چلانے والی انتظامی کمیٹی کے اختیارات کو محدود کر کے انسانی امداد کی تنظیم نو اور زندگی کو معمول پر لانے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا یہ تسلسل سیز فائر معاہدے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قابض دشمن اپنے وعدوں پر عمل درآمد کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

لہٰذا، مرکز نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور معاہدے کے ضامن فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھائیں، امداد کی وافر ترسیل کو یقینی بنائیں، پابندیاں ختم کریں اور نہتے شہریوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کریں۔

مرکز نے ان دستاویزی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور سیز فائر معاہدے کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی انسان کی عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔