
مرکزاطلاعات فلسطین
قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ القدس کے قدیم شہر اور اس کے گرد و نواح کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ مسیحی برادری کی جانب سے کنيسہ القیامہ میں سبت النور کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے موقع پر جگہ جگہ فوجی رکاوٹیں اور لوہے کے جنگلے نصب کر دیے گئے ہیں۔
قابض اسرائیل کی فوج گرجہ گھر کی جانب جانے والے راستوں پر پھیل گئی اور اس نے وہاں آنے والے نمازیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس دوران متعدد نوجوانوں کے شناختی کارڈز کی تلاشی لی گئی اور کئی افراد کو داخلے سے روک دیا گیا، جبکہ قدیم شہر کے گرد و نواح میں قائم فوجی چوکیوں پر سخت ترین فوجی اقدامات نافذ کیے گئے۔
یہ جابرانہ اقدامات القدس میں یونانی آرتھوڈوکس پیٹریاارکیٹ کی جانب سے گذشتہ جمعہ کو دی گئی اس کال کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں سبت النور کی رسومات میں بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی جارحیت کے پس منظر میں کنيسہ القیامہ کو مسلسل 40 دنوں تک بند رکھا گیا تھا۔
القدس اور تمام فلسطین و اردن کے یونانی آرتھوڈوکس پیٹریاارک، تھیوفیلوس سوم نے چرچ کے اندر نام نہاد مقدس قبر میں خصوصی دعا کی قیادت کی۔ اس موقع پر پادریوں اور ان محدود نمازیوں کی قلیل تعداد موجود تھی جو قابض دشمن کی سخت پابندیوں کے باوجود وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔
سبت النور مسیحیوں کے نزدیک ہفتہِ آلام کا آخری دن اور پاس اوور کی تمہید ہوتا ہے۔ اس دن کنيسہ القیامہ سے مقدس روشنی فلسطین کے کئی شہروں بشمول رام اللہ، بیت لحم، نابلس اور جنین کے علاوہ مقبوضہ علاقوں اور بیرون ملک کے دیگر مقامات تک منتقل کی جاتی ہے۔
اسی تناظر میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قدیم شہر کے دروازوں میں سے ایک، باب الجديد پر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر لکھا ہے کہ داخلہ صرف بریسلیٹ (ڈورے) رکھنے والوں کے لیے ہے۔ یہ ان پابندیوں کی جانب اشارہ ہے جو قابض پولیس کی جانب سے چرچ میں داخلے کے لیے لگائی گئی ہیں۔
القدس کے مسیحی شہری ان اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جو ہر سال دہرائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ داخلے کے لیے بریسلیٹ پیٹریاارکیٹس اور قونصل خانوں کے ذریعے بانٹے جاتے ہیں جو اکثر غیر ملکی سیاحوں کو ملتے ہیں، جبکہ مقامی رہائشیوں کو ان کے اپنے گرجہ گھروں تک رسائی سے محروم رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے نہ کہ کوئی مراعات۔
القدس کی ایک خاتون شہری نے بتایا کہ ان پابندیوں کی وجہ سے وہ برسوں سے ان مذہبی رسومات میں شریک نہیں ہو سکی ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اس سال سیاحوں کی عدم موجودگی کے باعث بعض خاندانوں کو بریسلیٹ سسٹم قبول کرنا پڑا، حالانکہ وہ ماضی میں اس کی مخالفت کرتے رہے تھے۔
یاد رہے کہ قابض حکام نے اس سے قبل مغربی کنارے کے مسیحیوں کے القدس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی اور اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر جنگ کے آغاز کے بعد سے پرمٹ جاری کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ اسی طرح گذشتہ دیگر مذہبی مواقع بشمول پام سنڈے پر بھی سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر مذہبی تقریبات کو محدود کر دیا گیا تھا۔


