
مرکزاطلاعات فلسطین
ایک حالیہ اسرائیلی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران قابض اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو مسلسل بڑھتی ہوئی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے داغے گئے میزائلوں میں سے تقریباً چوتھائی حصہ فضا میں تباہ نہیں کیا جا سکا، جس کے نتیجے میں یہ میزائل دفاعی حصار کو عبور کرتے ہوئے قابض اسرائیل کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے محاذ آرائی طویل ہو رہی ہے، میزائلوں کے دفاعی نظام کو چیر کر نکل جانے کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
اخبار ہارٹز کی جانب سے پیر 13 اپریل سنہ 2026ء کو شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق ایران نے چالیس روزہ جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی طرف تقریباً 650 میزائل داغے، جن میں سے 77 میزائل فضائی دفاع کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ یہ کل تعداد کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے جنہوں نے اپنے اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا۔
اخبار نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں میں سے 16 ایسے تھے جن میں 100 سے 500 کلوگرام وزنی بارودی مواد موجود تھا، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم میزائلوں کی ایک بڑی اکثریت کلسٹر قسم کی تھی، جو وسیع رقبے پر چھوٹے بم بکھیر دیتے ہیں۔ ان میزائلوں نے کم از کم 380 مقامات پر شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں قابض اسرائیل کے اندر 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین بھی لقمہ اجل بن گئیں اور متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ انشطاری میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ تل ابیب ان میزائلوں کو روکنے کے لیے اب تک کوئی موثر حل تیار نہیں کر سکا، باوجود اس کے کہ گذشتہ جنگوں میں بھی اسے اس قسم کے خطرے کا سامنا رہا تھا۔
گذشتہ جنگ سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت داغے گئے 530 میزائلوں میں سے صرف 35 دفاعی نظام کو عبور کر پائے تھے، مگر حالیہ معرکے میں یہ تعداد واضح طور پر بڑھی ہے، خاص طور پر انشطاری میزائلوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے قابض دشمن کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں 220 میزائل داغے گئے جن میں سے 5 فیصد قابض اسرائیل کے اندر گرے اور بیت شیمش اور تل ابیب میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرے ہفتے میزائلوں کی تعداد کم ہو کر 100 رہ گئی لیکن ان کے دفاعی نظام کو چیرنے کی شرح بڑھ کر 7 فیصد ہو گئی، جس سے شہر یہود میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ تیسرے اور چوتھے ہفتے میں میزائل داغنے کی شرح 80 سے 100 کے درمیان رہی، مگر دفاعی نظام کی ناکامی کا تناسب پہلے 16 فیصد اور پھر 23 فیصد تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں مزید 8 افراد ہلاک ہوئے۔ پانچویں ہفتے میں 90 میزائل داغے گئے جن میں سے 10 فیصد سے زائد دفاعی نظام کو پار کر گئے، جبکہ جنگ کے آخری پانچ دنوں میں یہ شرح ریکارڈ 27 فیصد تک پہنچ گئی، جس میں حیفہ میں ایک میزائل گرنے سے 4 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ درجنوں میزائل کھلے میدانوں میں گرے جنہیں روکنے کی ضرورت نہیں تھی، اور دفاعی میزائلوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ کی طوالت نے فوج کو خطرات کی پالیسی (رسک مینجمنٹ) پر مجبور کر دیا ہے، جہاں انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کن میزائلوں کو روکنا ہے اور کن کے مقابلے میں اپنے دفاعی ذخائر کو محفوظ رکھنا ہے۔
روکنے کی پالیسی
اس تناظر میں قابض فوج نے میزائلوں کو روکنے کے لیے مختلف نظام استعمال کیے، جن میں ’ڈیوڈ سلنگ‘ بھی شامل ہے، جسے بنیادی طور پر درمیانے درجے کے میزائلوں کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن کلسٹر میزائلوں کے خلاف یہ کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکا۔ اسی طرح طویل فاصلے کے میزائلوں کو فضا سے باہر روکنے کے لیے ’ایرو 3‘ کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے ایک دفاعی میزائل کی قیمت 30 لاکھ ڈالر تک ہے، جو اس کے وسیع استعمال میں رکاوٹ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ کے تھاد (THAAD) نظام کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے کیونکہ اسے گذشتہ معرکوں میں کثرت سے استعمال کیا گیا اور اس کا ایک حصہ خلیجی ممالک کو بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی افسران نے دفاعی نظام کی ناکامی کی شرح میں اضافے کو سکیورٹی پالیسی سے جوڑا ہے، جس کے تحت ایران، یمن اور لبنان سے ہونے والے کثیر الجہتی حملوں کے پیش نظر صرف اسٹریٹجک مقامات اور گنجان آباد علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اخبار نے ایک اسرائیلی ریزرو افسر کا قول نقل کیا ہے کہ کسی نے بھی سالوں پر محیط جنگ اور ایران کی طرف سے براہ راست حملوں کے بار بار آنے والے مرحلوں کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ تین سالوں میں قابض اسرائیل پر تقریباً 1500 زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے جا چکے ہیں۔
نقصانات کی نوعیت کے حوالے سے رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ انشطاری میزائلوں سے نکلنے والے چھوٹے بم رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلاتے ہیں، جبکہ بڑے وار ہیڈ والے میزائل پوری عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر ہارٹز نے ایک اسرائیلی افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایران نے اب ایک واضح جوابی دفاعی مساوات (ڈیٹرنس) قائم کر لی ہے، جس کے تحت ایرانی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے جواب میں وہ قابض اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، جو حالیہ مرحلے میں طاقت کے توازن میں آنے والی بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔


