0
9

احمد الشرع: "اسرائیل کے ساتھ گولان پر مذاکرات سکیورٹی معاہدے سے مشروط ہیں”

دمشق: شامی صدر احمد الشرع نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ مقبوضہ گولان ہائٹس (Golan Heights) کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق ایک ایسے سکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں جو ان تمام علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دے جہاں وہ سابقہ حکومت (بشار الاسد دور) کے خاتمے کے بعد داخل ہوئی تھی۔

ترکیہ میں منعقدہ "انطالیہ ڈپلومیٹک فورم” کے دوران ایک مذاکراتی نشست میں صدر الشرع نے کہا: کہ "اسرائیل 1974 کے فوجوں کی علیحدگی کے معاہدے (Disengagement Agreement) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ہم آج ایک ایسے سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ان علاقوں سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنائے جہاں اس نے سابقہ نظام کے گرنے کے بعد قبضہ کیا تھا۔” ان کے مطابق تصفیہ دو صورتوں میں ممکن ہے ،؛یا تو 1974 کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے 1974 کی حدود (Lines) تک واپس جایا جائےیا پھر سکیورٹی کی نئی بنیادوں پر ایک نیا معاہدہ طے کیا جائے جو دونوں فریقین کی سلامتی کی ضمانت دے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر سکیورٹی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو شام مقبوضہ گولان کے مسئلے کے حل کے لیے طویل مدتی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے سختی سے دہرایا کہ:

"کسی بھی ملک کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان پر اسرائیل کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا مکمل طور پر باطل اور غیر قانونی ہے۔

۔۔۔۔۔

5

الشرق الاوسط: غزہ انتظامی کمیٹی میں "افراتفری اور استعفے”؛ ارکان کو2 میڈیا سے بات کرنے کی "ممانعت”

قاہرہ/غزہ: "الشرق الاوسط” کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ غزہ کی پٹی کے معاملات چلانے کے لیے قائم کردہ "نیشنل کمیٹی” کے کم از کم دو ارکان نے اپنے سربراہ علی شعث کو استعفے پیش کر دیے ہیں، تاہم عالمی نمائندے نکولائی ملادینوف نے ان استعفوں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اور ملادینوف کے درمیان شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ملادینوف نے ارکان کو ایک پیغام بھیجا ہے جسے "دھمکی” سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن استعفیٰ نہیں دے سکتا اور وہ اس کام کو مکمل کرنے پر مجبور ہیں جو کمیٹی کے لیے طے کیا گیا ہے۔کمیٹی کو درپیش بحران کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں؛ کمیٹی کے پاس اب تک کام شروع کرنے کے لیے کوئی بجٹ نہیں ہے اور نہ ہی ارکان کی تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔ ارکان اس بات پر نالاں ہیں کہ غزہ کے مستقبل اور رابطوں کے حوالے سے انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ملادینوف نے کمیٹی کے ارکان کو باور کرایا ہے کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے (Demilitarization) کا منصوبہ ان پر بھی لاگو ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کو اپنا ذاتی دفاعی اسلحہ بھی چھوڑنا ہوگا۔

فلسطینی دھڑوں کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں کمیٹی کے کام کے حوالے سے گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم تین ارکان نے ملادینوف کی پالیسیوں اور ان کے مبینہ طور پر "اسرائیلی شرائط” کے سامنے جھکنے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے کی کوشش کی۔سب سے متنازع نکتہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں قبائلیوں، سیاسی دھڑوں اور کمیٹی کے ارکان سے ذاتی اسلحہ واپس لینا شامل ہے۔ اس سے یہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں کہ کیا یہ کمیٹی کسی تحفظ کے بغیر غزہ کا انتظام چلا سکے گی؟ خاص طور پر ایسے حالات میں جب اسرائیل کی جانب سے ممتاز کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

غزہ میں موجود تنظیموں  نے انتظامی کمیٹی کی مدد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں قاہرہ میں "جامع قومی مفاہمت” کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس مشکل مرحلے سے نکلا جائے اور قابض اسرائیل کے پیدا کردہ حقائق سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ سیاسی معاہدہ کیا جائے۔”الشرق الاوسط” نے کمیٹی کے سربراہ علی شعث اور دیگر ارکان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ملادینوف کی جانب سے سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ کوئی بھی رکن میڈیا میں بیان جاری نہیں کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

6

بن غویر کے دور میں "جہنم بنتی جیلیں”؛ رہا ہونے والے فلسطینی قیدی کی گواہی: "تشدد جو تھمتا نہیں”

رام اللہ – (عزیزہ نوفل): ہم نے مقبوضہ قدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ میں رہا ہونے والے اسیر عبدالرحمن محمد سے ان کے گھر پر ملاقات کی، تاکہ وہ ہمیں اپنے گرفتاری کے تجربے کے بارے میں بتا سکیں جو مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 10 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ محمد عبدالرحمن کو ماضی میں 6 بار گرفتار کیا گیا اور وہ مجموعی طور پر 5 سال جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ ایک گرفتاری کے دوران وہ لائیو گولی لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کے آپریشن بھی ہوئے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاری ان کی زندگی کی "مشکل ترین اور تلخ ترین” گرفتاری تھی۔

الجزیرہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نے بتایا کہ ماضی میں تشدد صرف تفتیش کے مخصوص اوقات تک محدود ہوتا تھا، لیکن حالیہ دور میں یہ 24 گھنٹے کا معمول بن چکا ہے۔ گرفتاری کے لمحے سے لے کر، منتقلی (بوسطہ)، تفتیش، تلاشی، صبح و شام کی گنتی، یہاں تک کہ کلینک اور عدالت منتقلی کے دوران بھی ہر جگہ اور ہر وقت بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔محمد نے بتایا:”ہم نے ‘عصيون’ جیل میں قیدیوں کے خلاف ایک قتلِ عام (Massacre) جیسی صورتحال دیکھی۔ وہاں ایک ہزار سے زائد قیدیوں کو مکمل طور پر برہنہ کر دیا گیا اور ہمارے جسم کے حساس حصوں سمیت ہر جگہ بدترین تشدد کیا گیا۔ ہم 48 گھنٹے تک اسی حال میں رہے اور مسلسل پٹتے رہے۔”بات کرتے ہوئے محمد نے اپنے کولہے کی ہڈی کی طرف اشارہ کیا جو اسی تشدد کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہے۔محمد نے بتایا کہ جیلوں میں سب سے بڑی تبدیلی "اشبال” (18 سال سے کم عمر قیدیوں) کے ساتھ سلوک  میں آئی ہے۔ماضی میں جب محمد پہلی بار اپنی جوانی میں گرفتار ہوئے تھے، تو کم عمری کی وجہ سے ان کے ساتھ کچھ رعایت برتی جاتی تھی۔اب جیلوں میں بچوں اور بڑوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ اب بچوں کی کم عمری کا فائدہ اٹھا کر انہیں مزید ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی ہے۔عبدالرحمن محمد کے مطابق، اب جیل میں کوئی بھی مطالبہ کرنا، چاہے وہ وکیل سے ملنا ہو یا محض واش روم جانے کی اجازت، اس کا جواب صرف اور صرف بدترین مار پیٹ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔

احمد الشرع: "اسرائیل کے ساتھ گولان پر مذاکرات سکیورٹی معاہدے سے مشروط ہیں”

دمشق: شامی صدر احمد الشرع نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ مقبوضہ گولان ہائٹس (Golan Heights) کے حوالے سے مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریق ایک ایسے سکیورٹی معاہدے پر دستخط کریں جو ان تمام علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دے جہاں وہ سابقہ حکومت (بشار الاسد دور) کے خاتمے کے بعد داخل ہوئی تھی۔

ترکیہ میں منعقدہ "انطالیہ ڈپلومیٹک فورم” کے دوران ایک مذاکراتی نشست میں صدر الشرع نے کہا: کہ "اسرائیل 1974 کے فوجوں کی علیحدگی کے معاہدے (Disengagement Agreement) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ہم آج ایک ایسے سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ان علاقوں سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنائے جہاں اس نے سابقہ نظام کے گرنے کے بعد قبضہ کیا تھا۔” ان کے مطابق تصفیہ دو صورتوں میں ممکن ہے ،؛یا تو 1974 کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے 1974 کی حدود (Lines) تک واپس جایا جائےیا پھر سکیورٹی کی نئی بنیادوں پر ایک نیا معاہدہ طے کیا جائے جو دونوں فریقین کی سلامتی کی ضمانت دے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر سکیورٹی معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو شام مقبوضہ گولان کے مسئلے کے حل کے لیے طویل مدتی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے سختی سے دہرایا کہ:

"کسی بھی ملک کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان پر اسرائیل کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا مکمل طور پر باطل اور غیر قانونی ہے۔

۔۔۔۔۔

5

الشرق الاوسط: غزہ انتظامی کمیٹی میں "افراتفری اور استعفے”؛ ارکان کو2 میڈیا سے بات کرنے کی "ممانعت”

قاہرہ/غزہ: "الشرق الاوسط” کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ غزہ کی پٹی کے معاملات چلانے کے لیے قائم کردہ "نیشنل کمیٹی” کے کم از کم دو ارکان نے اپنے سربراہ علی شعث کو استعفے پیش کر دیے ہیں، تاہم عالمی نمائندے نکولائی ملادینوف نے ان استعفوں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اور ملادینوف کے درمیان شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ملادینوف نے ارکان کو ایک پیغام بھیجا ہے جسے "دھمکی” سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی رکن استعفیٰ نہیں دے سکتا اور وہ اس کام کو مکمل کرنے پر مجبور ہیں جو کمیٹی کے لیے طے کیا گیا ہے۔کمیٹی کو درپیش بحران کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں؛ کمیٹی کے پاس اب تک کام شروع کرنے کے لیے کوئی بجٹ نہیں ہے اور نہ ہی ارکان کی تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔ ارکان اس بات پر نالاں ہیں کہ غزہ کے مستقبل اور رابطوں کے حوالے سے انہیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ملادینوف نے کمیٹی کے ارکان کو باور کرایا ہے کہ غزہ کو غیر مسلح کرنے (Demilitarization) کا منصوبہ ان پر بھی لاگو ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کو اپنا ذاتی دفاعی اسلحہ بھی چھوڑنا ہوگا۔

فلسطینی دھڑوں کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں میں کمیٹی کے کام کے حوالے سے گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کم از کم تین ارکان نے ملادینوف کی پالیسیوں اور ان کے مبینہ طور پر "اسرائیلی شرائط” کے سامنے جھکنے کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دینے کی کوشش کی۔سب سے متنازع نکتہ یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں قبائلیوں، سیاسی دھڑوں اور کمیٹی کے ارکان سے ذاتی اسلحہ واپس لینا شامل ہے۔ اس سے یہ سوالات پیدا ہو گئے ہیں کہ کیا یہ کمیٹی کسی تحفظ کے بغیر غزہ کا انتظام چلا سکے گی؟ خاص طور پر ایسے حالات میں جب اسرائیل کی جانب سے ممتاز کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ موجود ہے۔

غزہ میں موجود تنظیموں  نے انتظامی کمیٹی کی مدد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں قاہرہ میں "جامع قومی مفاہمت” کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح اس مشکل مرحلے سے نکلا جائے اور قابض اسرائیل کے پیدا کردہ حقائق سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ سیاسی معاہدہ کیا جائے۔”الشرق الاوسط” نے کمیٹی کے سربراہ علی شعث اور دیگر ارکان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ملادینوف کی جانب سے سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ کوئی بھی رکن میڈیا میں بیان جاری نہیں کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

6

بن غویر کے دور میں "جہنم بنتی جیلیں”؛ رہا ہونے والے فلسطینی قیدی کی گواہی: "تشدد جو تھمتا نہیں”

رام اللہ – (عزیزہ نوفل): ہم نے مقبوضہ قدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ میں رہا ہونے والے اسیر عبدالرحمن محمد سے ان کے گھر پر ملاقات کی، تاکہ وہ ہمیں اپنے گرفتاری کے تجربے کے بارے میں بتا سکیں جو مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 10 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ محمد عبدالرحمن کو ماضی میں 6 بار گرفتار کیا گیا اور وہ مجموعی طور پر 5 سال جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ ایک گرفتاری کے دوران وہ لائیو گولی لگنے سے زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کے آپریشن بھی ہوئے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاری ان کی زندگی کی "مشکل ترین اور تلخ ترین” گرفتاری تھی۔

الجزیرہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد نے بتایا کہ ماضی میں تشدد صرف تفتیش کے مخصوص اوقات تک محدود ہوتا تھا، لیکن حالیہ دور میں یہ 24 گھنٹے کا معمول بن چکا ہے۔ گرفتاری کے لمحے سے لے کر، منتقلی (بوسطہ)، تفتیش، تلاشی، صبح و شام کی گنتی، یہاں تک کہ کلینک اور عدالت منتقلی کے دوران بھی ہر جگہ اور ہر وقت بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔محمد نے بتایا:”ہم نے ‘عصيون’ جیل میں قیدیوں کے خلاف ایک قتلِ عام (Massacre) جیسی صورتحال دیکھی۔ وہاں ایک ہزار سے زائد قیدیوں کو مکمل طور پر برہنہ کر دیا گیا اور ہمارے جسم کے حساس حصوں سمیت ہر جگہ بدترین تشدد کیا گیا۔ ہم 48 گھنٹے تک اسی حال میں رہے اور مسلسل پٹتے رہے۔”بات کرتے ہوئے محمد نے اپنے کولہے کی ہڈی کی طرف اشارہ کیا جو اسی تشدد کی وجہ سے ٹوٹ چکی ہے۔محمد نے بتایا کہ جیلوں میں سب سے بڑی تبدیلی "اشبال” (18 سال سے کم عمر قیدیوں) کے ساتھ سلوک  میں آئی ہے۔ماضی میں جب محمد پہلی بار اپنی جوانی میں گرفتار ہوئے تھے، تو کم عمری کی وجہ سے ان کے ساتھ کچھ رعایت برتی جاتی تھی۔اب جیلوں میں بچوں اور بڑوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ اب بچوں کی کم عمری کا فائدہ اٹھا کر انہیں مزید ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی ہے۔عبدالرحمن محمد کے مطابق، اب جیل میں کوئی بھی مطالبہ کرنا، چاہے وہ وکیل سے ملنا ہو یا محض واش روم جانے کی اجازت، اس کا جواب صرف اور صرف بدترین مار پیٹ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔

غزہ: شہداء اور اسیران کے دفتر کے ذمہ دار زاہر جبارین نے کہا ہے کہ اس سال "یومِ اسیرِ فلسطین” ایک ایسے تلخ واقعاتی پس منظر میں آ رہا ہے جو ہمارے بہادر قیدیوں کے لیے اب تک کا خطرناک ترین دور ہے۔ قابض دشمن کی وحشیانہ کارروائیوں، تشدد، تذلیل اور محرومیوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کا مقصد قیدیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیست) سے حال ہی میں منظور شدہ "سزائے موت” کا قانون دشمن کی اسی سنگدلانہ سوچ کا عکاس ہے۔جبارین نے جمعہ کے روز اپنے صحافتی بیان میں واضح کیا کہ آج جیلوں کی صورتحال خونی اور تباہ کن ہو چکی ہے۔ قابض انتظامیہ قیدیوں کے خلاف بدترین قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، جن میں خوراک، پینے کے پانی اور ادویات سے محرومی شامل ہے۔ یہاں تک کہ قید خانے (زندان) زندوں کے لیے قبرستان بن چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا:

"اس تاریک تصویر کے باوجود، ہمارے اسیران کے عزائم آسمانوں کو چھو رہے ہیں۔ دشمن کا ظلم کتنا ہی بڑھ جائے، زنجیریں کتنی ہی سخت ہو جائیں اور قید کی رات کتنی ہی لمبی ہو جائے، ان کی ہمت کو توڑا نہیں جا سکتا۔”

جبارین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قیدیوں کا مسئلہ تحریک کی ترجیحات میں سرِفہرست رہے گا اور ان کی آزادی کے لیے کوششیں کبھی نہیں رکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی مزاحمت کا وہ عہد ہے جس سے وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی، چاہے وقت کتنا ہی طویل ہو جائے یا چیلنجز کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہو جائیں۔ ہمارا مقصد تمام جیلوں کو خالی کرانا اور ہر قیدی کو آزاد دیکھنا ہے۔

۔۔۔۔۔

10

گولان میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو فروغ دینے اور ‘کتسرین’ کو ‘شہر’ میں تبدیل کرنے کے لیے 33 کروڑ ڈالر کا اسرائیلی منصوبہ

اسرائیلی حکومت نے بدھ کی رات مقبوضہ شامی گولان میں بستیوں کی توسیع کے لیے ایک پانچ سالہ منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں تقریباً ایک ارب شیکل( 33کروڑ ڈالر سے زیادہ) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس منصوبے میں ہزاروں نئے آباد کاروں کی آمد اور ‘کتسرین’ نامی بستی کو اس علاقے کے ‘پہلے شہر’ میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ یہ اقدام گولان میں صہیونی کنٹرول کو مضبوط بنانے کا اگل مرحلہ ہے۔

‘تنوفا ڈائریکٹوریٹ’ (اسرائیلی ترقیاتی ادارہ) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 2026 اور 2030 کے درمیان چلے گا، جس کا مقصد تقریباً 3000 نئے خاندانوں کو آباد کرنا ہے۔ ان میں سے 1500 خاندان ‘کتسرین’ بستی میں اور باقی 1500 دیگر بستیوں میں آباد کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہاؤسنگ پراجیکٹس، انفراسٹرکچر کی توسیع اور ان شعبوں کو فروغ دیا جائے گا جنہیں اسرائیل ‘گروتھ کے فیکٹرز’ قرار دیتا ہے۔

اس منصوبے میں مقبوضہ گولان میں آبادکاری کے حکام کے لیے تقریباً 70 ملین شیکل مالیت کی مراعات کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ مزید برآں، وسیع تر تعمیراتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا، جن میں ‘کتسرین’ میں نئے محلوں کی ترقی کی تکمیل اور آبادکاری کی توسیع کی خاطر فوجی علاقوں کو خالی کرانے پر کام کرنا شامل ہے۔منصوبے میں صنعت، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں 200 ملین شیکل سے زائد کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جس میں ‘سیاحتی مقامات’ پر قبضہ و ترقی اور صنعتی علاقوں کا قیام شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘اکیڈمک اور تحقیقی منصوبوں’ کے لیے تقریباً 110 ملین شیکل مختص کیے گئے ہیں، جن میں تعلیمی سرگرمیوں کی توسیع، ریسرچ اینڈ انوویشن سینٹرز کا قیام اور ویٹرنری طبی سہولیات شامل ہیں۔

عرب 48، 16/4/2026

۔۔۔۔۔۔

11

فلسطینی اتھارٹی نے ہشام حرب کو فرانس کے حوالے کر دیا

فلسطینی اتھارٹی نے جمعرات کے روز فلسطینی شہری محمود العدرا، جو ہشام حرب کے نام سے معروف ہیں، کو فرانسیسی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ ان پر تقریباً 43 سال قبل پیرس میں ایک حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

فرانس ہشام حرب اور دیگر فلسطینیوں پر 1982 میں پیرس کے وسط میں واقع یہودی محلے کے ایک ریسٹورنٹ پر مسلح حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے، جس میں 6 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔ فرانس 2015 سے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ آزاد ہیومن رائٹس کمیشن کے وکیل عمار دویک نے کہا: "آج ہشام حرب کے اہل خانہ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ انہیں فرانسیسی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے”۔ رام اللہ میں الجزیرہ کی نامہ نگار جيفارا البديري نے آج سہ پہر اطلاع دی کہ خاندان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پولیس نے انہیں بتایا ہے کہ حرب کو اردن منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں فرانس کے حوالے کیا جائے گا۔

ہشام حرب کون ہیں؟

وہ 72 سالہ ریٹائرڈ فلسطینی کرنل ہیں، اور چار دہائیاں قبل جب یہ کارروائی ہوئی تھی، وہ یاسر عرفات کی ‘فتح-انقلابی کونسل’وابستہ تھے جو 1974 میں قائم ہوئی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے مسلح جدوجہد ترک کر دی تھی اور متعدد عرب ممالک میں مقیم رہے۔ وہ جولائی 1994 میں یاسر عرفات کے ہمراہ غزہ واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی 13 ستمبر 1993 کو اوسلو معاہدے کے بعد سینکڑوں دیگر افراد کی طرح ان کی حیثیت کی بحالی کے طریقہ کار کے تحت عمل میں آئی تھی۔ مغربی کنارے میں اپنے خاندان کے ہمراہ منتقلی کے بعد، حرب نے رام اللہ میں جنرل انٹیلی جنس سروس میں شمولیت اختیار کی اور وہاں سے کرنل کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔

الجزيرة نیٹ 16/4/2026ء

۔۔۔۔۔۔

گزشتہ مضمون.
اگلا مضمون.
Muhammad Daniyal
محمد دانیال ایک نوجوان قلم کار ہیں۔ آپ کا تعلق خانیوال سے ہے۔ متنوع موضوعات پر آپ کا تخصص ہے۔ ہماری ویب گاہ پر ان کی تحریرات کی شمولیت ہمرے لیے ایک اعزاز ہے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں