مرکزاطلاعات فلسطین
گذشتہ رات بحیرہ عرب میں امریکی بحریہ نے ایرانی کارگو جہاز کے خلاف بحری قزاقی کی کارروائی کی ہے۔ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے جواب میں تہران نے امریکی جنگی جہازوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو نشر کی جس میں ایرانی کارگو جہاز توسکا کو قبضے میں لینے کے عمل کو دکھایا گیا ہے۔ یہ آپریشن ایمفیبیئس اسالٹ شپ یو ایس ایس ٹرپولی سے شروع کیا گیا جہاں سے ہیلی کاپٹروں نے بحیرہ عرب کے اوپر پرواز کر کے تجارتی جہاز کو روکا۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی فورسز نے 19 اپریل سنہ 2026ء کو ایرانی پرچم بردار جہاز پر رسیوں کے ذریعے اتر کر قبضہ کیا۔ اس سے قبل میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس اسپرونس نے جہاز کے پروپلشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا تھا کیونکہ جہاز نے امریکی فورسز کی جانب سے تقریباً 6 گھنٹے تک جاری رہنے والی متواتر تنبیہات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
الجزیرہ نیٹ ورک کی اوپن سورس یونٹ نے میرین ٹریفک پلیٹ فارم کے ذریعے جہاز کے ڈیٹا کو ٹریک کیا اور انکشاف کیا کہ جہاز نے ملائیشیا سے ایران جاتے ہوئے خلیج عمان میں ایران کے خصوصی اقتصادی زون میں داخل ہونے کے بعد دوحہ کے وقت کے مطابق شام چار بجے اچانک یو ٹرن لیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ٹریکنگ ڈیٹا اور شپنگ ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ توسکا جہاز جس پر امریکی فورسز نے چڑھائی کی وہ باقاعدگی سے چینی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوتا تھا اور اس نے ایسے پانیوں میں بھی وقت گزارا جو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں غیر قانونی منتقلی کے لیے مشہور ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیج عمان میں بحری فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یو ایس ایس اسپرونس ڈسٹرائر نے توسکا جہاز کو اس وقت روکا جب اس نے واشنگٹن کی جانب سے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تقریباً 900 فٹ طویل جہاز نے رکنے کے لیے امریکی بحریہ کی بار بار کی تنبیہات کا جواب دینے سے انکار کیا۔
ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء نے اس حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی جس سے اس کا نیویگیشن سسٹم متاثر ہوا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایرانی جہاز کی ڈیک پر اپنی فورسز کے کچھ اہلکاروں کو اتارا۔ بعد ازاں ایران نے اس قزاقی کے جواب میں ڈرونز کے ذریعے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
یہ کشیدگی متوقع مذاکرات سے ایک روز قبل اور آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے سائے میں سامنے آئی ہے۔ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں جنگ بندی کے خاتمے سے چند دن قبل پیر کے روز ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے پاکستان مذاکرات کار بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔


