قابض اسرائیلی معیشت پر فلسطینی مزدوروں کا بائیکاٹ کاری ضرب: سرکاری رپورٹ میں انکشاف

0
2

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیل کے سرکاری مبصر کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے فلسطینی مزدوروں کے اسرائیلی لیبر مارکیٹ میں داخلے پر پابندی کے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اس فیصلے سے افرادی قوت میں گہرا خلا پیدا ہوا ہے اور قابض ریاست کے اہم معاشی شعبے شدید خسارے سے دوچار ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل اسرائیل کی لیبر مارکیٹ میں فلسطینی مزدوروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 5 ہزار تھی جبکہ غیر ملکی مزدوروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ایک لاکھ 70 ہزار کے درمیان تھی۔ یعنی کل غیر ملکی یا غیر اسرائیلی مزدوروں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے 2 لاکھ 75 ہزار کے درمیان تھی۔

فلسطینی مزدوروں کے داخلے پر پابندی کے بعد فوراً ہی تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار مزدوروں کی کمی واقع ہوئی، جس کا 92 فیصد بوجھ تعمیرات اور زراعت کے شعبوں پر پڑا، کیونکہ یہ دونوں شعبے فلسطینی لیبر پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس کمی کا براہ راست اثر مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) پر پڑا ہے، خاص طور پر زراعت، تعمیرات اور صنعت کے شعبوں میں، جو قابض اسرائیل کی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔

اسرائیلی وزارت خزانہ نے قلیل مدتی نقصانات کا تخمینہ 3.1 ارب شیکل لگایا ہے، جبکہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس میں طویل مدتی نقصانات شامل نہیں ہیں، جیسے تعمیراتی منصوبوں میں سست روی اور رہائشی یونٹس کی قلت، جو مستقبل میں قیمتوں میں اضافے اور افراط زر کا سبب بن سکتے ہیں۔

بغیر جامع جائزے کے فیصلوں کا خمیازہ

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی مزدوروں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ، جس میں دسمبر سنہ 2023ء میں توسیع کی گئی تھی، بغیر کسی جامع جائزے کے کیا گیا تھا۔ تاحال کسی حکومتی ادارے نے اس کے طویل مدتی اثرات کا منظم انداز میں اندازہ نہیں لگایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل حکومتی منظرناموں میں لیبر کی طویل مدتی کمی کے امکان کو شامل نہیں کیا گیا تھا، خاص طور پر تعمیراتی شعبے میں۔ اسی طرح رہائش اور زراعت کی وزارتیں بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ مئی سنہ 2024ء تک، بحران کو حل کرنے کے لیے کسی مرکزی ادارے کے پاس واضح اختیارات نہیں تھے، جس کی وجہ سے ذمہ داریوں کا انتشار پیدا ہوا اور فیصلہ سازی میں تاخیر ہوئی۔ غیر ملکی مزدوروں کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے کی کوششوں کے باوجود جون سنہ 2025ء تک صرف تعمیراتی شعبے میں ہی 37 ہزار مزدوروں کی کمی برقرار تھی۔

رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ لیبر کی قلت کا تسلسل مجموعی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ تعمیراتی شعبہ دیگر شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔ مزید برآں، مزدوروں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر بہت سے آجروں کے غیر قانونی طور پر فلسطینی مزدوروں کو کام پر رکھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ رپورٹ نے واضح کیا کہ فلسطینی لیبر کوئی ثانوی عنصر نہیں بلکہ اہم پیداواری شعبوں کے استحکام کا بنیادی جزو ہے اور موجودہ پالیسیاں اس کا کوئی متبادل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

فیصلے کے پیچھے سیاسی محرکات

رپورٹ اگرچہ پیشہ ورانہ نوعیت کی ہے، لیکن اس کے اعداد و شمار معاشی پہلوؤں سے ماورا سیاسی و نظریاتی محرکات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فلسطینی مزدوروں پر مسلسل پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکومت فلسطینی معیشت کو دبانے کے لیے معاشی نقصانات برداشت کرنے کو تیار ہے۔ اس کا مقصد مغربی کنارے میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کر کے فلسطینیوں کی آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا ہے، جو کہ فنڈز کی کٹوتی جیسی مالیاتی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہے۔

رپورٹ میں اس مشکل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فلسطینی مزدوروں کا متبادل عالمی سطح پر میسر نہیں ہے، کیونکہ عالمی سپلائی محدود ہے اور غیر ملکی مزدور جنگ کی صورتحال میں اسرائیل میں کام کرنے سے کتراتے ہیں، نیز انہیں لانے کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ یہ رپورٹ لیبر فائل کے انتظام میں واضح ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، اور اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قابض حکومت اب تک بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث آنے والے وقت میں معاشی نمو اور لیبر مارکیٹ کے استحکام پر وسیع تر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔