مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی افواج نے اپنی سفاکیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں آج منگل کے روز ایک خاتون اور بچے سمیت مزید سات فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے، جبکہ ایک اور فلسطینی خاتون قابض دشمن کے ایجنٹوں کی فائرنگ سے لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آج دوپہر جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس شہر کے مشرق میں واقع حی الشیخ ناصر کے قریب قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے میزائل داغا جس کے نتیجے میں فلسطینی شہری خمیس القصاص ثبیل شہید ہو گئے۔
علاقائی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آج صبح الشفاء ہسپتال میں ایک خاتون ہبہ جمال ابو شقفہ کی لاش لائی گئی، جو شمالی غزہ کی پٹی کے علاقے العطاطرہ میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئیں۔
اسی طرح شمالی غزہ میں جبالیا کیمپ کے رہائشی ایک معصوم بچے عبداللہ دواس بھی قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کر گئے۔
آج علی الصبح خان یونس پر قابض اسرائیل کی ایک غارت گرانہ کارروائی کے نتیجے میں تین شہری شہید ہوئے، جبکہ بعد ازاں چوتھے زخمی کے دم توڑ جانے کے بعد شہدا کی تعداد چار ہو گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے خان یونس کے مغرب میں واقع حی الامل میں سکیورٹی اہلکاروں کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درویش صائب درویش العتال ، سعد عبداللہ حسن ابوہلال اور ماجد علاء ابو موسیٰ موقع پر شہید ہو گئے، جبکہ محمد مصطفیٰ المؤمن ابوہلال زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں شہید ہوئے۔
ذرائع کے مطابق شہید درویش العتال کا نکاح محض ایک دن قبل ہوا تھا، مگر قابض اسرائیل کی سفاکیت نے ان کی زندگی کے چراغ گل کر دیے۔
جنوبی غزہ میں ہی ایک اور دلدوز واقعہ پیش آیا جہاں رفح کے علاقے مواصی میں گذشتہ روز قابض دشمن کی ملیشیاؤں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی خاتون رشا ابو جزر آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بے گھر فلسطینیوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے مسلسل گولہ باری کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی پھیلانے کا عمل بھی جاری ہے، جبکہ سامانِ زندگی، امداد کی ترسیل اور سفر پر کڑی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2024ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہدا کی تعداد 784 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2214 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 761 شہدا کے جسد خاکی ملبے سے نکالے جا چکے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس ہمہ گیر نسل کشی اور جارحیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 72560 فلسطینی شہید اور 172317 زخمی ہو چکے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اس جنگ کی سنگین انسانی قیمت کی واضح علامت ہے۔


