یروشلم: اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں عملی طور پر الحاق کی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ یہ بیان الحاق کے خلاف عالمی برادری کے موقف کے لیے ایک واضح چیلنج ہے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ ‘کابینٹ’ کے رکن کوہن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل "زمین پر خودمختاری کا نفاذ” ہے۔
اسرائیلی حکومت لفظ "خودمختاری” کو "الحاق” (ضم) کے اظہار کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ طور پر کہا تھا کہ وہ مغربی کنارے میں اس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں۔
نیتن یاہو کی جماعت ‘لیکوڈ’ کے سرکردہ رہنما کوہن نے مزید کہا: "میں نے سامرہ کونسل (شمالی مغربی کنارے کی بستیوں) کے سربراہ یوسی داگان کے ساتھ نئی بستیوں کو بجلی اور پانی کے نیٹ ورک سے جوڑنے کا معاہدہ کیا ہے، جن میں حومش، صانور، رحبعام اور عیبال کی بستیاں شامل ہیں”۔

