اسرائیلی فوج میں خودکشی کے بڑھتے واقعات سے شدید نفسیاتی بحران کا انکشاف

0
5

مرکزاطلاعات فلسطین

قابض اسرائیلی فوج کی صفوں میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، جو سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے گہرے نفسیاتی اثرات کو بے نقاب کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے کہ آیا قابض صہیونی عسکری ادارہ اس بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

ہارٹز اخبار نے اتوار کے روز رپورٹ کیا ہے کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 حاضر سروس فوجی خودکشی کر چکے ہیں، جن میں سے 6 واقعات صرف رواں مہینے کے دوران پیش آئے، جو اس رجحان کی تیز رفتاری کا واضح اشارہ ہے۔

ان اعداد و شمار میں وہ 3 ریزرو فوجی بھی شامل ہیں جنہوں نے جنگ کے دوران خدمات انجام دیں اور اس مہینے ملازمت سے باہر ہونے کے بعد اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، اس کے علاوہ پولیس کی صفوں میں بھی خودکشی کے دو واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں بارڈر گارڈ کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

یہ جنگ کے آغاز سے ہی ایک مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے؛ سنہ 2023ء میں خودکشی کے 17 کیس ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 7 غزہ میں نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد پیش آئے تھے۔ یہ تعداد سنہ 2024ء میں بڑھ کر 21 اور سنہ 2025ء میں 22 تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ دہائی کے دوران سالانہ اوسط تقریباً 12 کیس رہی تھی، جبکہ سنہ 2010ء میں سب سے زیادہ 28 کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے۔

سنہ 2026ء کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خودکشی کرنے والوں میں ریزرو فوجیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جو 5 کیسز پر مشتمل ہے، جبکہ 3 کیسز لازمی سروس اور 2 مستقل سروس کے دوران پیش آئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فورسز کے اس حصے پر دباؤ کا حجم کتنا زیادہ ہے۔

اس تناظر میں عسکری ادارے کے اندر اس رجحان پر قابو پانے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ نفسیاتی دباؤ کا شکار بہت سے فوجی علاج کے لیے رجوع نہیں کرتے۔ اخبار نے مین پاور ڈویژن کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے نقل کیا کہ فوج کو جنگ کے شروع میں لگا تھا کہ وہ صورتحال پر قابو پا لے گی، لیکن بعد میں یہ بحران دھماکہ خیز صورت اختیار کر گیا۔

بعض افسران موجودہ مہینے میں واقعات میں اضافے کو اسرائیل کی جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی یادگاری تقریب سے جوڑ رہے ہیں، تاہم نفسیاتی صحت کے ماہرین نے اس وضاحت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس طرح کا کوئی نمونہ نہیں دیکھا گیا تھا، اور یہ کہ مسلسل لڑائی کا دباؤ اور محدود فوجیوں کو بار بار طلب کرنا بحران کو شدت دینے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی علاج کے شعبے میں سرگرم کارکنوں نے نشاندہی کی ہے کہ قابض فوج کی جانب سے اعلان کردہ سرکاری دعووں کے برعکس فراہم کردہ مدد میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریزرو فوجیوں کو سویلین زندگی میں واپس بھیجنے سے قبل نفسیاتی علاج کے ایام کو ختم کر دیا گیا تھا، جنہیں بعد میں جزوی طور پر بحال کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ جنگ کے دوران نفسیاتی طور پر متاثرہ فوجیوں کو ان کی حالت کا تخمینہ لگائے بغیر دوبارہ بھرتی کیا گیا۔ اس کے علاوہ کمانڈروں کی جانب سے فوجیوں پر سروس میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور کچھ کو گرفتاری کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس دوران فوجیوں نے بتایا کہ افرادی قوت کی کمی یا فوج کے اندر نفسیاتی صحت کے حوالے سے روایتی منفی سوچ کے باعث انہیں علاج کروانے سے روکا گیا۔

اس سب کے باوجود فوج کا نفسیاتی صحت کا محکمہ خودکشی کے واقعات کے درمیان کسی واضح مماثلت سے انکار کرتا ہے اور تعداد میں اضافے کو بھرتی ہونے والے فوجیوں کی تعداد میں اضافے، خاص طور پر ریزرو فورس میں اضافے کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔

رواں مہینے کے دوران لڑائی میں حصہ لینے والے فوجیوں کی خودکشی کے کیسز بھی ریکارڈ ہوئے، جن میں شلداگ اسپیشل یونٹ کا ایک ریزرو فوجی، کفیر بریگیڈ کا ایک فوجی، آرمرڈ کور کا ایک مستقل اہلکار، اور ایک ریزرو کامبیٹ طبی عملہ شامل ہے جس نے چھٹی پر جانے کے بعد اپنی زندگی ختم کر لی۔

ان کیسز میں وہ فوجی بھی شامل ہیں جنہوں نے سروس سے باہر زندگی ختم کی، جن میں سنہ 2014ء کی جنگ میں شرکت کے بعد واپس آنے والا ایک فوجی، کرملی بریگیڈ کا ایک فوجی اور ایئر انٹیلیجنس میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والا ایک فوجی شامل ہے۔ ان کے قریبی افراد نے شدید نفسیاتی اذیت اور فراہم کردہ مدد کے ناکافی ہونے کی گواہی دی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اعلان کردہ تعداد پوری تصویر عکاس نہیں ہے، کیونکہ اس میں وہ فوجی شامل نہیں ہیں جنہوں نے ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد خودکشی کی۔ فوج نے سنہ 2025ء کے آخر میں اس قسم کے 15 کیسز کا اعتراف کیا تھا، جبکہ اخبار نے اس کے بعد سے چار مزید کیسز کا ذکر کیا ہے، جن میں سے تین گزشتہ مہینے کے دوران پیش آئے۔